امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کا اسلوبِ تعلیم اور زیرِ درس اسباق کا اجمالی خاکہ

طلبۂ تخصص فی النحو و الصرف، امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند | Apr 28, 2026
Size
*امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کا اسلوبِ تعلیم اور زیرِ درس اسباق کا اجمالی خاکہ*

امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند نے طلباء و اساتذہ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے *سہ ماہی آن لائن اجرائے نحو و صرف کورس* کا آغاز کیا تھا بحمدللہ اس کورس میں ملک کے طول و عرض سے طلباء و اساتذہ نے حصہ لیا اور اپنی علمی تشنگی بجھائی، (ابھی دوسرے بیچ میں داخلے جاری ہیں، رابطہ کریں)
https://wa.me/917091402036

*کورس کی اہم خصوصیات*

(١) *استحضار* یعنی اصطلاحات و قواعد کو ذہن نشیں کرانا
(۲) *حفظ و کتابت* ضروری اسباق کو کاپی میں لکھوا کر یاد کرانا (سبق یاد کرنے اور ضروری چیزوں کو کاپی میں لکھ کر دکھانے کا مکلف بنایا جانا)
(٣) *تعلیمِ فن* ایک خاص بات یہ ہے کہ ہمارے استاد محترم (حضرت مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی) نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اس مختصر کورس میں کوئی مخصوص کتاب نہیں پڑھائی جائے گی بلکہ *فن* پڑھایا جائے گا، الحمدللہ پورا فن پڑھایا گیا، مثلا علم نحو کے تین حصے کیے گئے؛ *بحثِ اسم، بحثِ فعل، بحثِ حرف* اسی اسلوب پر علمِ صرف کو بھی تین حصوں میں تقسیم کیا گیا؛ *تصریفات، تعلیلات، خاصیات* اور اس طرح الحمدللہ ہر بحث کو مع تمام متعلقات پڑھایا گیا۔

(٤) *تصحیحِ عبارت* یعنی عبارت پر درست اعراب لگانے پر خاص توجہ دی گئی، حلِ مفردات اور وجہِ اعراب کی تفہیم کے مفید ترین طریقے بیان کئے گئے،
(٥) *تعارفِ کتب* مختلف کتبِ نحو و صرف کا تعارف کرایا گیا،
(٦) اصولِِ ترجمہ سے بھی روشناس کرایا گیا،
(۷) ہر دن کا سبق گروپ میں _بشکلِ پی ڈی ایف، ٹیکس یا تصاویر_ بھیج دیا جاتا تھا
(۸) ہر ماہ 20 اسباق ہوئے، تین مہینوں میں کل 60 اسباق پڑھائے گئے

*طلبہ کرام کی خدمت میں استاذِ محترم کے دیے گئے دروس کا اجمالی خاکہ علی سبیل الاختصار پیش کیا جا رہا ہے:*

*پہلا سبق:*
(۱) علم نحو کی تعریف
(۲) علم نحو کا موضوع
(۳) علم نحو کی غرض و غایت
(۱) علم صرف کی تعریف
(۲) علم صرف کا موضوع
(۳) علم صرف کی غرض و غایت

*دوسرا سبق*
(۱) اسم کی تعریف اور اس کی علامات
(۲) فعل کی تعریف اور اس کی علامات
(۳) حرف کی تعریف اور اس کی علامات

*تیسرا سبق:*
اسم متمکن کی باعتبار وجوہ اعراب سولہ قسمیں ہیں

*چوتھا سبق:*
(۱) مرفوعات کتنے ہیں؟
(۲) منصوبات کتنے ہیں؟؟
(٣) مجرورات کتنے ہیں؟
(٤) توابع خمسہ کی تعریفات مع امثلہ

*پانچواں سبق:*
( ~۱) معرب اور مبنی کی تعریف
(۲) مبنی کی اقسام

*چھٹا سبق:*
*اسم کی پہلی تقسیم باعتبار اعراب و بناء*
#معرب اور مبنی کی تعریف
(۲) مبنی کی اقسام (مبنی کی اولا تین قسمیں ہیں:
(الف) مبنی الاصل
(ب) مشابہ مبنی الاصل
(ج) غیر مرکب
*(مبنی الاصل کی چار قسمیں ہیں:*
۱- تمام حروف
۲-فعل ماضی
۳-امر حاضر
٤-جملہ
*مشابہ مبنی الاصل کی آٹھ قسمیں ہیں:*
١-ضمیریں
٢-اسمائے اشارہ
٣-اسمائے موصولہ
٤-اسمائے اصوات
٥-اسمائے افعال
٦-اسمائے ظروف مبنیہ
٧-اسمائے کنایہ
٨-مرکبات بنائی
*غیر مرکب کی بے شمار قسمیں ہیں*
(معرب کی دو قسمیں ہیں: اسم معرب، فعل معرب،
اسم معرب (اسم معرب کو اسم متمکن بھی کہا جاتا ہے) کی 16 قسمیں ہیں، ان 16 قسموں کو کسی کتاب سے یاد کر لیجیے
اور فعل مضارع جو نونہائے تاکید اور نونہائے جمع مونث سے خالی ہو)

*ساتواں سبق:*
*اسم کی دوسری تقسیم باعتبار عموم و خصوص (یعنی باعتبار تعریف و تنکیر)*
*اسم کی باعتبار تعریف و تنکیر دو قسمیں ہیں:*
معرفہ اور نکرہ
معرفہ کی سات قسمیں ہیں:
١-ضمیریں
٢-اسمائے اشارہ
٣-اسمائے موصولہ
ان دونوں کو "مبہمات" کہتے ہیں
٤-معرفہ بنداء
٥-معرفہ بالف و لام (معرف باللام)
٦-مضاف بیکے ازینہا
نکرہ


*آٹھواں سبق:*
*اسم کی تیسری تقسیم باعتبار جنس (یعنی باعتبار تذکیر و تانیث)*
*اسم کی باعتبار جنس دو قسمیں ہیں:*
(۱) مذکر و مؤنث کی تعریف
(۲) علامات تانیث کی تعداد
(۳) مؤنث کی علامت کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں:
١_مؤنث قیاسی
٢_مؤنث سماعی
(۴) مؤنث کی ذات کے اعتبار سے بھی دو قسمیں ہیں:
١_مؤنث حقیقی
٢_مؤنث غیر حقیقی (مؤنث لفظی)

*نواں سبق:*
*اسم کی چوتھی تقسیم باعتبار تعداد*
*اسم کی باعتبار تعداد تین قسمیں ہیں:*
(۱) واحد کی تعریف مع مثال
(۲) تثنیہ کی تعریف مع مثال
(۳) جمع کی تعریف مع مثال
(۴) جمع کی پہلی تقسیم باعتبار لفظ دو قسمیں ہیں:
١_جمع تکسیر
٢_جمع تصحیح
___کی تعریف اور ان کے اوزان____
(۵) جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم کی تعریف و مثال
(۶) جمع کی دوسری تقسیم باعتبار معنی؛
جمع قلت، جمع کثرت
کی تعریف اور اوزان
(۷) اسم جمع، اسم جنس کی تعریف و امثلہ

*دسواں سبق:*
(۱) *مرکب کی تعریف و اقسام: مرکب مفید، مرکب غیر مفید*
(۲)مرکب مفید کی دو قسمیں ہیں جملہ خبریہ، جملہ انشائیہ،
(جملہ خبریہ کی دو قسمیں ہیں جملہ اسمیہ، جملہ فعلیہ)
*جملہ انشائیہ کی دس قسمیں ہیں:*
امر نہی وغیرہ
*(۳) مرکب غیر مفید کی چار قسمیں ہیں:*
(٤) مرکب اضافی، مرکب توصیفی، مرکب بنائی، مرکب منع صرف کی تعریف و امثلہ

*گیارہواں سبق:*
*(۱) اسم کی پانچویں تقسیم باعتبار ذات تین قسمیں ہیں:*
جامد
مصدر
مشتق
*(۲) جملے کی باعتبار ذات چار قسمیں ہیں:*
اسمیہ
فعلیہ
ظرفیہ
شرطیہ
*(۳) جملے کی با اعتبار صفات نو قسمیں ہیں:*
١_مبینہ
٢_معللہ
٣_معترضہ
٤_مسانفہ/ ابتدائیہ
٥_حالیہ
٦_معطوفہ
٧_مفصلہ
٨_مفسرہ
٩_نتیجیہ

*بارہواں سبق:*
(۱) *اسم کی چھٹی تقسیم باعتبار عامل و معمول*

*اسم کی باعتبار عامل گیارہ قسمیں ہیں:*
(۱) اسم فاعل
(۲)اسم مفعول
(۳)صفت مشبہ
(٤)اسم تفضیل
(۵) مصدر
(٦)اسم مضاف
(٧)اسم تام
(٨)اسمائے کنایہ
(۹)اسماء شرطیہ
(۱۰)اسمائے افعال
(۱۱) اسم مبالغہ
*اسم کی باعتبار معمول تین قسمیں ہیں:*
(۱) مرفوعات (مرفوعات آٹھ ہیں)
(۲) منصوبات (منصوبات 12 ہیں)
(۳) مجرورات (مجرورات دو ہیں)

*تیرہواں سبق:*
(۱) *فعل تقسیم باعتبار جمود و تصرف*

*فعل کی باعتبار جمود و تصرف دو قسمیں ہیں:*
(١)فعل متصرف
(٢)فعل غیر متصرف
*نوٹ:فعل متصرف سے صرفی بحث کرتا ہے اور فعل غیر متصرف سے نحوی بحث کرتا ہے*
*فعل متصرف کی چھ تقسیمات:*
*١_فعل متصرف کی پہلی تقسیم باعتبار زمانہ:*
اس کی تین قسمیں ہیں: ماضی، مضارع، امر حاضر
*٢_فعل متصرف کی دوسری تقسیم باعتبار نسبتِ فعل:*
اس کی دو قسمیں ہیں:
معروف، مجہول
*٣_فعل متصرف کی تیسری تقسیم باعتبار اثبات و نفی:*
اس کی بھی دو قسمیں ہیں:
مثبت و منفی
*٤-فعل متصرف کی چوتھی تقسیم باعتبار تاکید و تقریر*
اس کی دو قسمیں ہیں
(الف)وہ فعل متصرف جس کی تاکید لانا جائز ہو جیسے فعل مضارع، امر حاضر
(ب)وہ فعل جس کی تاکید لانا جائز نہ ہو جیسے فعل ماضی
*٥_فعل متصرف کی پانچویں تقسیم باعتبار حروف اصلیہ*
اس کی قسمیں ہیں:
ثلاثی
رباعی
*٦_فعل متصرف کی چھٹی تقسیم باعتبار صحت و اعلال:*
اس کی چار قسمیں ہیں:
صحیح
مہموز
معتل
مضاعف

(ابھی دوسرے بیچ میں داخلے جاری ہیں، رابطہ کریں)
https://wa.me/917091402036

*چودھواں سبق:*
*(۱)فعل غیر متصرف کی دو قسمیں ہیں:*
(١) افعال عاملہ
(٢)افعال غیر عاملہ(اس کی کوئی قسم نہیں ہے)
*افعال عاملہ کی پانچ قسم ہیں:*
١_افعال تامہ (افعال تامہ کی دو قسمیں ہیں: لازم اور متعدی)
٢_افعال ناقصہ
٣_افعال مقاربہ
٤_افعال مدح و ذم
٥_افعال تعجب)
*(۲)حرف کی دو قسمیں ہیں:*
حروف معانی
حروف مبانی
*حروف معانی کی دو قسمیں ہیں:*
(١)حروف عاملہ، اس کی دو قسمیں ہیں:
*۱_اسم میں عمل کرنے والے (اس کی سات قسمیں ہیں:*
١_حروف جارہ
٢_حروف مشبه بالفعل
٣_ما و‌لا مشابه پلیس
٤_لائے نفی جنس
٥_حروف نداء
٦_الأ حرف استثناء
٧_واؤ بمعنی مع
*۲_فعل میں عمل کرنے والے (اس کی دو قسمیں ہیں:*
الف_حروف ناصبہ، یہ چار ہیں:
أن، لن، كي، إذن
ب_حروف جازمہ یہ پانچ ہیں:
لم، لما، لام امر، لائے نھی، إن شرطیہ )
*(٢)حروف غیر عاملہ(اس کی سولہ قسمیں ہیں:*
١_حروف استفہام
٢_حروف ایجاب
٣_حروفِ تنبیہ
٤_حروف تفسیر
٥_حروف تحضیض
٦_حرف توقع
٧_تنوین
٨_حرف ردع
٩_حروفِ زیادت
١٠_حروف شرط
١١_حروفِ عطف
١٢_لام مفتوحہ
١٣_لَوْلا
١٤_ما بمعنى ما دام
١٥_حروفِ مصدریہ
١٦_نون تاکید

*پندرھواں سبق:*
(۱) *جامد، مصدر، مشتق کی تعریف اور ان کی علامات*
(۲) *علم صرف کی مخصوص اصطلاحات؛ سہ اقسام، شش اقسام، ہفت اقسام، دہ اقسام اور دوازدہ اقسام کی وضاحت*
الف__
۱_ اسم، ۲_ فعل، ۳_ حرف، کو *"سہ اقسام یا اقسام ثلاثہ"* کہا جاتا ہے،
ب__
۱_ثلاثی مجرد، ۲_ ثلاثی مزید فیہ، ۳_ رباعی مجرد، ۴_ رباعی مزید فیہ، ۵_ خماسی مجرد، ۶_ خماسی مزید فیہ، کو *"شش اقسام یا اقسام ستہ"* کہا جاتا ہے
ج__
۱_صحیح، ۲_مثال، ۳_مضاعف، ۴لفیف، ۵_ناقص، ۶_مہموز، ۷_اجوف کو "*ہفت اقسام یا اقسام سبعہ"* کہا جاتا ہے،
##برائے مطالعہ:
(((بعض مرتبہ ہفت اقسام کو دو قسموں میں تقسیم کرتے ہیں:
الف__
_ *چہار اقسام یا اقسام اربعہ*
۱_صحیح، ۲_مہموز، ۳_ معتل ۴_ مضاعف
ب__

*دہ اقسام یا اقسام عشرہ*
(01) صحیح (02) مهموز الفاء (03) مہموز العین (04) مهموز اللام (05) مضاعف (06) مثال (معتل فاء)(07) اجوف (معتل عین) (08) ناقص(معتل لام)(09) لفیف مقرون (10) لفيف مفروق)))

*سولہواں سبق:*

علم صرف میں *سہ اقسام، شش اقسام، ہفت اقسام* کے علاوہ *ابواب* سے بھی بحث ہوگی،

انشاءاللہ اس مہینے میں *تصریفات* ، اگلے مہینے میں *تعلیلات* تیسرے مہینے میں *خاصیات* کو بیان کیا جائے گا،

آج کے سبق میں ہم انشاءاللہ 40 *ابواب* کو تفصیلا بیان کریں گے:
تمام ابواب کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
(۱) ثلاثی مجرد کے ابواب
(۲) ثلاثی مزید فیہ کے ابواب
(۳) رباعی مجرد کے ابواب
(۴) رباعی مزید فیہ کے ابواب
(۵) ملحق برباعی مجرد کے ابواب
(۶) ملحق برباعی مزید فیہ کے ابواب

*ثلاثی مجرد کے ابواب:*
ثلاثی مجرد کے کل آٹھ ابواب ہیں جن کی دو قسمیں ہیں:
(۱) مُطَّرِد (۲) شَاذ.
*مطرد: کثیر الاستعمال ابواب کو "مطرد" کہا جاتا ہے اور یہ پانچ ہیں:*
(۱) نَصَرَ يَنْصُرُ (۲) ضَرَبَ يَضْرِبُ (۳) سَمِعَ يَسْمَعُ (۴) فَتَحَ يَفْتَحُ (۵) كَرُمَ يَكْرُمُ .
*شاذ: قلیل الاستعمال ابواب کو "شاذ" کہا جاتا ہے، یہ تین ابواب ہیں:*
(۱) حَسِبَ يَحْسِبُ (۲) كَادَ يَكَادُ كَوُدَ يَكْوَدُ) (۳) فَضِلَ يَفْضُلُ.
ان میں سے آخری باب متروک الاستعمال ہے، اور دوسرا باب نہایت قلیل الاستعمال ہے۔

*نوٹ: صرفیین زیادہ تر ثلاثی مجرد کے چھ ابواب سے بحث کرتے ہیں:*

*(۱)ثلاثی مجرد کے چھ ابواب ہیں:*
(۱) ضَرَبَ يَضْرِبُ (۲) سَمِعَ يَسْمَعُ (۳) نَصَرَ يَنْصُرُ (۴) فَتَحَ يَفْتَحُ (۵) حَسِبَ يَحْسِبُ (۶) كَرُمَ يَكْرُمُ .

*(۲) ثلاثی مزید فیہ کے چودہ ابواب ہیں:*
(۱) افْتِعَالُ (۲) اِنْفِعَالُ (۳) اِسْتِفْعَالُ (۴) اِفْعِلالٌ (۵) افْعِيْلالٌ (۶) افْعِيْعَالٌ (۷) اِفْعِوَّالٌ (۸) افَّعُّلٌ (۹) إِفَّاعُلٌ (۱۰)إِفْعَال (۱۱) تَفْعِيلٌ (۱۲)مُفَاعَلَةٌ (۱۳) تَفَعُّلُ (۱۴) تَفَاعُلُ.
تنبیہ:
باب افَّعُّلٌ اور إِفَّاعُلٌ اصل میں تَفَعُّلُ اور تَفَاعُلُ تھے، تاء کو جوازا "فاء کلمہ" کی جنس سے بدل دیا، پھر دو ہم جنس حروف کے جمع ہونے کی وجہ سے پہلے کو ساکن کر کے دوسرے میں مدغم کر دیا، اور ابتداء میں ہمزۂ وصل داخل کر دیا گیا تو یہ افَّعُّلٌ اور إِفَّاعُلٌ بن گئے،اس سے معلوم ہوا کہ ثلاثی مزید فیہ کے ابواب بارہ ہی ہیں۔

*(۳) رباعی مجرد کا صرف ایک باب ہے: فَعْلَلَةٌ.*

*(۴) رباعی مزید فیہ کے تین ابواب ہیں: (۱) تَفَعْلُلْ (۲) افْعِلَّالٌ (۳) افْعِنْلَال۔*

*(۵) ملحق بہ رباعی مجرد کے سات ابواب ہیں:*
(۱) فَعْلَلَةٌ (۲) فَعْوَلَةٌ (۳) فَيْعَلَةٌ (۴) فَعْيَلَةٌ (۵) فَوْعَلَةٌ (۶) فَعْنَلَةٌ (۷) فَعْلاةٌ۔
*(۶) ملحق بہ رباعی مزید فیہ کی تین اقسام ہیں:*
(۱) ملحق بہ افْعِلَّال (۲) ملحق بہ اِفْعِنْلَال (۳) ملحق بہ تَفَعْلُلْ۔
(١) *ملحق بہ اِفْعِلَّال* کا صرف ایک باب ہے: اِفْوِعْلَاْل.
(۲) *ملحق بہ اِفْعِنْلَال* کے دو ابواب ہیں: (۱) اِفْعِنْلَال (۲) اِفْعِنْلَاءٌ.
(۳) *ملحق بہ تَفَعُلُلْ* کے آٹھ ابواب ہیں: (۱) تَفَعُلُلْ (۲) تَفَعُول (۳) تَفَيعُلْ (۴) تَفَوْعُلٌ (۵) تَفَعْنَلْ (۶) تَمَفْعُل (۷) تَفَعْلُتْ (۸) تَفَعْلٍ.

*فائدہ*
خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ کل ابواب مستعملہ چالیس (۴۰) ہیں :
(۱)چھ ثلاثی مجرد
(۲)بارہ ثلاثی مزید فیہ
(۳)ایک رباعی مجرد
(۴)تین رباعی مزید فیہ
(۶)سات ملحق برباعی مجرد
(۷)گیارہ ملحق برباعی مزید فیہ


*سترھواں سبق:*

*دہ اقسام یا اقسام عشرہ کی تعریفات*
(01) صحیح (02) مهموز الفاء (03) مہموز العین (04) مهموز اللام (05) مضاعف (06) مثال (معتل فاء)(07) اجوف (معتل عین) (08) ناقص(معتل لام)(09) لفیف مقرون (10) لفيف مفروق)))

*اٹھارھواں سبق:*

(١) *اشتقاق اور عدم اشتقاق کے اعتبار سے اسم کی تینوں قسمیں؛ جامد، مصدر، مشتق میں "شش اقسام اور دہ اقسام" کو جاری کرنا ہے، جس کی تفصیل فوٹو کی شکل میں بھیج دی گئی ہے*
(٢) *الحاق کی تعریف وغیرہ، اس کی پوری تفصیلات فوٹو میں بھیج دی گئی ہے*

*انیسواں سبق:*

(١) تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا،
(نمونہ بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دیا گیا ہے)
(٢) اسم جامد کے چھ اوزان:
ثلاثی مجرد
ثلاثی مزید فیہ
مجرد رباعی
رباعی مزید فیہ
خماسی مجرد
خماسی مزید فیہ؛ یاد کرنا
یہ اوزان بشکل تصاویر بھیج دیے گئے ہیں


*بیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب نصر ینصر کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
*نوٹ:*


*اکیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب ضرب یضرب کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) *اعراب کی قسمیں؛ اعراب بالحرکت، اعراب بالحروف، اعراب لفظی، اعراب تقدیری، اعراب بنائی، اعراب حکائی کی تعریفات و امثلہ*

(۳) *اسم متمکن کی سولہ اقسام میں سے پہلی تین قسموں کی وضاحت*


*بائیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب فتح یفتح کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) عامل کی تعریف و ضاحت اور تعداد

(۳) *اسم متمکن کی سولہ اقسام میں سے چوتھی اور دسویں قسم کی وضاحت*

*تیئیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب کرم یکرم کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) *ترکیب کی تعریف و ضاحت، فائدہ اور غرض و غایت*

(۳) *اسم متمکن کی سولہ اقسام میں سے پانچویں قسم کی وضاحت*
(۳) *عدل کی تعریف، عدل تحقیقی و عدل تقدیری کی تعریفات و امثلہ*


*چوبیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب سمع یسمع کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) *جملے کی باعتبار ذات چار قسمیں ہیں اور باعتبار صفات نو قسمیں ہیں*

(۳) *اسم متمکن کی سولہ اقسام میں سے چھٹی، ساتویں، آٹھویں اور نویں قسم کی وضاحت*

*پچیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب حسب یحسب کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) *جملے کی باعتبار ذات چار قسموں اور باعتبار صفات نو قسموں کی وضاحت، تفصیلات فوٹو میں ملاحظہ فرمائیں*
(۳) *جملہ خبریہ کی دو قسمیں ہیں: الف؛ وہ جملہ خبریہ جو لفظا اور معنی دونوں اعتبار سے خبریہ ہوں*
*ب؛ وہ جملہ خبریہ جو لفظا خبریہ ہوں لیکن معنی انشائیہ ہوں*
(۳) *اسم متمکن کی سولہ اقسام میں سے گیارہویں اور بارہویں قسم کی وضاحت*

(ابھی دوسرے بیچ میں داخلے جاری ہیں، رابطہ کریں)
https://wa.me/917091402036



*چھبیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب تفعیل کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) جملے کی با اعتبار محل دو قسمیں ہیں:
ایک وہ جملہ جس کے لیے محل اعراب ہو
اور ایک وہ جملہ جس کے لیے محل اعراب ب نہ ہو
(۳) *اسم متمکن کی سولہ اقسام میں سے تیرھویں، چودھویں، پندرھویں اور سولھویں قسم کی وضاحت*


*ستائیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب مفاعلت کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) *دہ اقسام میں جو تغیر معتل میں ہوتا ہے اس کو اعلال یا تعلیل کہتے ہیں اور جو مہموز میں ہو اس کو تخفیف اور جو مضاعف میں ہو اس کو ادغام کہتے ہیں*
(۳) *اسکان، تحریک، زیادت، وغیرہ کی تعریف*
(۴) صحیح کے قواعد کا بغور مطالعہ


*اٹھائیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب افعال کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) صحیح کے قواعد کی تشریح
(۴) مہموز کے قواعد کا بغور مطالعہ

*انتیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب تَفَعُّل کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) مہموز کے قواعد کی تشریح
(۴) مثال کے قواعد کا بغور مطالعہ


*تیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب تَفَاعُل ( سبق 240 تا 249 ) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) مثال کے قواعد کی تشریح
(۳) اجوف کے قواعد کا بغور مطالعہ
(۴) ترکیب کے قواعد: حروف جارہ کی ترکیبی حیثیت

*اکتیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب انفعال ( سبق 251 تا 259 ) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) اجوف کے قواعد کی تشریح
(۳) مثال کے قواعد کا بغور مطالعہ
(۴) ترکیب کے قواعد: حروف جارہ کی ترکیبی حیثیت و قواعد کا مطالعہ

*بتیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب افتعال ( سبق 260 تا 279 ) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) ناقص کے دس کے قواعد کی تشریح
(۳) ناقص کے باقی قواعد کا بغور مطالعہ
(۴) ترکیب کے قواعد: حروف جارہ کی ترکیبی حیثیت و قواعد کا مطالعہ
(۵) اجراء کی تعریف، فائدہ، غرض، تقسیمات اسم کی وضاحت


*تینتیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب افتعال ( سبق 270 تا 277 ) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) ناقص کے بقیہ قواعد کی تشریح
(۳) مضاعف کے قواعد کا بغور مطالعہ
(۴) ترکیب کے قواعد: حروف جارہ کی ترکیبی حیثیت و قواعد کی وضاحت
(۵) تقسیمات اسم کی وضاحت
(۶) اسم کا اجرائے اجمالی

*پینتیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب استفعال ( سبق 280 تا 289 ) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) مضاعف کے قواعد کی تشریح
(۳) حروف مشبہ بالفعل کے ترکیبی قواعد و حیثیت کا مطالعہ (فوٹو بھیج دیے گئے ہیں)
(۴) تقسیمات اسم کی وضاحت
(۵) فعل کا اجرائے اجمالی (فوٹو بھیج دیا گیا ہے)

*چھتیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب افعیعال ( سبق 290 تا 299/ صفحہ نمبر 154 تا 159) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) حروف مشبہ بالفعل کے ترکیبی قواعد و حیثیت کا مطالعہ (فوٹو بھیج دیے گئے ہیں)
(۳) تقسیمات فعل کی وضاحت
(۵) فعل کا اجرائے اجمالی (فوٹو بھیج دیا گیا ہے)

*سینتیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب فعللۃ ( سبق 310 تا 318/ صفحہ نمبر 160 تا 167) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) حروف مشبہ بالفعل کے ترکیبی قواعد و حیثیت کی وضاحت
(۳) تقسیمات فعل کی وضاحت
(۴) تقسیمات حرف کا اجمالی نقشہ (فوٹو بھیج دیا گیا ہے)
(۵) خاصیات ابواب کا مطالعہ (فوٹو بھیج دیے گئے ہیں)

(ابھی دوسرے بیچ میں داخلے جاری ہیں، رابطہ کریں)
https://wa.me/917091402036


*اڑتینتیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب تفعلل ( سبق 410 تا 418/ صفحہ نمبر 168 تا 175) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) تقسیمات حرف کی وضاحت
(۳) خاصیات ابواب کا مطالعہ (فوٹو بھیج دیے گئے ہیں)

*انتالیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب ( سبق 420 تا 427/ صفحہ نمبر 176 تا 179) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) تقسیمات حرف کی وضاحت
(۳) خاصیات ابواب ثلاثی مجرد کی وضاحت (فوٹو بھیج دیے گئے ہیں)

*چالیسواں سبق:*

(١) *دہ اقسام میں باب افعلال ( سبق 430 تا 436 / صفحہ نمبر 180 تا 182 ) کی تصریفات (تصریف صغیر/ صرف صغیر، تصریف کبیر/ صرف کبیر) کا نمونہ ذہن نشیں کرنا*
(کتاب بشکل پی ڈی ایف فائل بھیج دی گئی ہے)
(۲) خاصیات باب افعال کی وضاحت (علم الصرف آخرین: 88 تا 91)

*اکتالیسواں سبق:*

(١) *باب افعال کی پندرہ خاصیات وضاحت (علم الصرف آخرین: 88 تا 91)*

*بیالیسواں سبق:*

(١) *باب تفعیل کی تیرہ خاصیات (علم الصرف آخرین: 91 تا 93)*
(۱) *عربی عبارت خوانی؛ اعراب والی کتاب سے*(القراءۃ الواضحہ: پہلا سبق)

*تنیتالیسواں سبق:*

(١) *باب تفعل کی گیارہ خاصیات (علم الصرف آخرین: 93 تا 95)*
(۱) *عربی عبارت خوانی مع وجہ اعراب؛ اعراب والی کتاب سے*(القراءۃ الواضحہ: پہلا سبق)
(۳) *چند اردو، فارسی عربی کتب نحو و صرف کا تعارف*

*چھیالیسواں سبق:*

(١) *باب افتعال کی خاصیات (علم الصرف آخرین: 98 تا 99)*
(۱) *عربی عبارت خوانی مع وجہ اعراب؛ اعراب والی کتاب سے*(القراءۃ الواضحہ: دوسرا سبق)
(۳) *كيف تتقن النحو کا تعارف

*سینتالیسواں سبق:*

(١) *باب استفعال کی خاصیات (علم الصرف آخرین: 99 تا 100)*
(۱) *عربی عبارت خوانی مع وجہ اعراب؛ بلاعراب والی کتاب*(ہدایہ : 03)
(۳) *شرح مائۃ عامل کی چند شروح کا تعارف*

*اڑتالیسواں سبق:*

(١) *باب استفعال کی خاصیات (علم الصرف آخرین: 100 تا 101)*
(۱) *عربی عبارت خوانی مع وجہ اعراب؛ بلاعراب والی کتاب*(ہدایہ : 03)
(۳) *"جامع الدروس العربیہ اور شذا العرف فی فن الصرف" کا تعارف*

سبق نمبر 50 تا 60 مختلف کتب درس نظامی کی درست عبارت خوانی پر توجہ، طلباء سے عبارت سننا، وجہ اعراب پوچھنا، اس کے علاوہ اصول ترجمہ اور دیگر نحوی امور پر بحث ہوئی


*دروس:* مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی، (منتظم اکیڈمی)
*جمع، ترتیب و تلخیص:* طلبۂ تخصص فی النحو و الصرف، امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند

نوٹ: ضبطِ دروس میں اغلاط کا امکان ہے، ہم اصلاح کے منتظر ہیں، علاوہ ازىں اگر اصحابِ نحو و صرف ہمیں قیمتی مشورے سے نوازیں گے تو ہم شکر گزار ہوں گے

7091402036

https://wa.me/917091402036

imamsibawayhacademy@gmail.com
About Author / مصنف کے بارے میں

طلبۂ تخصص فی النحو و الصرف، امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند is a valued contributor.

Share this Article