*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (٢٩)
مضمون نگار: *محمد شعیب اللہ کشن گنج، متعلم: دارالعلوم دیوبند*
===========================
*ایں سعادت بزور بازو نیست*
**قارئینِ کرام!
السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ ۔
امید ہے کہ آپ سب حضرات بخیریت ہوں گے اللہ رب العزت آپ سب کو دنیا و آخرت کی سرخروئی نصیب فرمائے۔
یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان کی زندگی خوابوں، تمناؤں اور آرزوؤں کے حسین مگر نازک دھاگوں سے بُنی ہوئی ہے۔ کچھ خواب وقت کی بے رحم آندھیوں میں بکھر جاتے ہیں، کچھ تمنائیں حالات کے طوفان میں ڈوب جاتی ہیں، مگر کچھ آرزوئیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو دل کے نہاں خانوں میں چراغِ امید بن کر جلتی رہتی ہیں—اور پھر ایک دن محنت، دعا اور توکل کے سہارے حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں۔
بندۂ ناتواں نے بھی ایک ایسا ہی خواب آنکھوں میں بسایا تھاایک ایسا خواب جس کی تعبیر کے لیے برسوں کی محنت، بے شمار دعائیں اور ان گنت بے چین راتیں صرف ہوئیں۔ مگر قسمت کی ستم ظریفی کہ مکمل کامیابی ہر بار ایک قدم دور ہی رہی۔
*ہفتم عربی کے آغاز میں دل نے ایک پختہ عزم کیا:* اب کی بار، یا تو کامیابی ہوگی یا پھر آخری حد تک کوشش!
مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، دل کی دھڑکنیں تیز، امیدیں کمزور اور حالات مزید پیچیدہ ہوتے گئے۔ سرکاری امتحانات نے تعلیمی سفر کو کچھ اس طرح متاثر کیا کہ خواب کی شمع مدھم پڑنے لگی۔
اسی اثنا میں، تقدیر نے ایک نیا در وا کیا—
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو نظر سے گزرا، جس میں حضرت الاستاذ *مفتی محمد حذیفہ صاحب قاسمی* کی نگرانی میں طلبہ *دارالعلوم دیوبند* کے امتحانِ داخلہ کی تیاری میں مصروف تھے۔ وہ منظر گویا میرے لیے امید کی نئی کرن تھا۔
میں نے ہمت کر کے رابطہ کیا۔ اپنے دل کی تمام کیفیات بیان کیں۔
کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد حضرت نے فرمایا:
" *اگر سچی لگن کے ساتھ محنت کرنا چاہتے ہو تو آ جاؤ!"*
یہ الفاظ نہیں تھےیہ میرے بجھتے ہوئے خواب میں نئی جان ڈالنے والی چنگاری تھی۔
*سفر روٹا مرکز*
رمضان المبارک سے ایک دن قبل بعد نمازِ ظہر بندہ ایک نئے عزم کے ساتھ روٹا مرکز کے لیے روانہ ہوا۔ مغرب کے وقت جب وہاں پہنچا تو ایسا محسوس ہوا جیسے محنت، نظم اور اخلاص کی ایک زندہ تصویر آنکھوں کے سامنے ہو،یہاں صرف پڑھایا نہیں جاتا تھابلکہ طالب علم کو بنایا جاتا تھا،ہر کتاب امتحان کے معیار کے مطابق، ہر سبق حکمت کے ساتھ، اور ہر دن ایک نئے جذبے کے ساتھ۔
جوابی کاپی کی مشق ہو یا وقت کی پابندی، تحریر کی صفائی ہو یا رموزِ اوقاف کی رعایت ،ہر پہلو پر ایسی محنت کروائی جاتی تھی کہ خود اعتمادی خود بخود پروان چڑھنے لگتی ۔
اور سب سے بڑھ کر،دعاؤں کا وہ ماحول، جو محنت کو قبولیت کا رنگ دیتا تھا۔
صرف بیس دن کی اس محنت نے
احساسِ کمتری کوختم… اور خود اعتمادی کو عروج بخشا!
*سفر دارالعلوم دیوبند*
عید الفطر کے فوراً بعد دل میں ایک دنیا بسائے ہم اس مقدس سفر پر روانہ ہوئے،رات کی خاموشی میں جب *دارالعلوم دیوبند* پہنچے تو ایسا لگا جیسے خواب حقیقت کے دروازے پر دستک دے رہا ہو،بلا کسی آرام کے اگلے ہی دن سے تیاری شروع—
دن محنت میں، راتیں دعا میں، اور دل ہر لمحہ اللہ کی یاد میں۔
آخرکار وہ گھڑی آ پہنچی—
امتحان مکمل ہوا، مگر اصل امتحان تو اب شروع ہوا تھا:
*انتظار* !
دل کی کیفیت کچھ ایسی تھی جیسے قیامت کے نتائج کا انتظار ہوپھر ایک دنقبل الظہر آرام کررہا تھا اچانک آنکھ کھلی اور
ایک پیغام موصول ہوا
جس میں لکھا ہوا تھا
*بھائی آپ کا دارالعلوم وقف دیوبند میں نامآگیا ہے*
*اللہ اکبر* !!!
آنکھوں سے آنسو رواں، دل سجدۂ شکر میں جھک گیا، اور زبان پر صرف ایک ہی صدا:
اے میرے پیارے رب !
یہ سب تیرے کرم کا نتیجہ ہے،
مگر ایک *مشفق استاذ* کو میں نے یہ خبر سنائی تو استاذ محترم نے فوراً تنبیہ کی اور فرمانے لگے :
" *ابھی یہ آغاز ہے، منزل نہیں* !"
گویا کامیابی کے جشن میں بھی ہوش کا دامن نہ چھوڑنے کا سبق دے دیا۔
چند دنوں کے بعد جب حتمی نتائج آئے، اور مسجد قدیم میں بوقت آہ وزاری جب انتخابی پرچے میں نظر پڑی تو یوں محسوس ہوا جیسے قسمت نے مسکرا کر کہا ہو،یہ ہے تمہاری محنت کا صلہ ! یہ ہے تمہاری تمناؤں کی منزل
آنکھیں نم، دل مطمئن اور روح شکر میں ڈوبی ہوئی تھی ۔
**ایں سعادت بزورِ بازو نیست*
*تا نہ بخشد خدائے بخشندہ**
*اظہارِ تشکر*
پیارے اللہ کا بے حد شکر گزار ہوں جس نے اپنے خاص فضل وکرم اور احسان سے بندہ کو *دارالعلوم دیوبند* جیسے عظیم ادارہ میں حصولِ علم کے لیے قبول فرمایا
اسی طرح میں اپنی مادرِ علمی *ادارہ فیض القرآن ٹھکری باڑی*
کے تمام منتظمین کا بھی دل سے شکر گزار ہوں، خصوصاً حضرت مہتمم صاحب دامت برکاتہم العالیہ، حضرت ناظم صاحب عمت فیوضکم العالیہ اور حضرت نائب مہتمم صاحب مدظلہ العالی کا، جن کی سرپرستی اور دعاؤں نے ہمیں ہمیشہ سہارا دیا۔
نیز تمام اساتذۂ کرام، *بالخصوص اساتذۂ مشکوٰۃ* :
حضرت شیخ الحدیث صاحب مظاہری دامت برکاتہم العالیہ ، حضرت ناظم تعلیمات صاحب مظاہری ،حضرت مفتی تنویر عالم صاحب قاسمی ، حضرت مفتی عبدالعزیز صاحب قاسمی ،حضرت مفتی راسخ الاسلام صاحب قاسمی ،حضرت مفتی مرغوب الرحمن مظاہری صاحب، حضرت مفتی افسر علی صاحب قاسمی ، اور حضرت مولانا انعام مختار صاحب قاسمی
جن حضرات کی شب و روز کی انتھک محنت، خلوص اور دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ ہمیں یہ کامیابی نصیب ہوئی۔ ان بزرگوں کی تعلیم و تربیت ہمیشہ ہمارے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
مزید یہ کہ اگر میں اپنے بچپن کے *اساتذۂ کرام* کا ذکر نہ کروں تو یہ یقیناً بڑی ناسپاسی ہوگی۔ وہ حضرات جنہوں نے ابتدا ہی سے مجھے اپنی اولاد کی طرح چاہا اور ہر لمحہ میری خبر گیری فرمائی میں اپنے *محسنِ اول* ،
حضرت اقدس قاری وحید الزماں صاحب کا انتہائی شکر گزار ہوں، جنہوں نے مجھے ایک ایک حرف سے روشناس کرایا اور حروف کی درست ادائیگی کی مضبوط بنیاد رکھی۔
اسی طرح اپنے استاذِ مکرم،حضرت مولاناجہانگیر صاحب
کا ممنون ہوں، جنہوں نے مجھے حروف کو جوڑنے، پڑھنے اور آگے بڑھنے کا سلیقہ عطا فرمایا۔
اور اپنے نہایت مشفق استاذ،حضرت اقدس مولانا قاری اقبال حسین صاحب
کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں، جنہوں نے مجھے اپنے بیٹے کی طرح چاہ کر مکمل قرآن کریم حفظ کرایا اور مجھے منبر و محراب کےقابل بنایا۔
اللہ ربّ کریم ان تمام اساتذۂ کرام، اکابرین اور محسنین کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی عمروں میں برکت دے، انہیں دونوں جہانوں میں کامیابی و کامرانی عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔ *آمین۔*
میں اپنے تمام رشتہ داروں، دوستوں، احباب اور فیملی کے ہر فرد کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں، جن کی محبتوں، دعاؤں اور حوصلہ افزائی نے مجھے اس مقام تک پہنچایا۔
خصوصی طور پر میں اپنی *پیاری والدہ* کا تہہ دل سے ممنون ہوں، اور *اپنے مرحوم والد صاحب* کو عقیدت کے ساتھ یاد کرتا ہوں، جن کی محنتوں اور دعاؤں کا یہ ثمر ہے۔
یہ ان کی دیرینہ خواہش تھی کہ ان کا بیٹا ایک دن یہ کامیابی حاصل کرے۔
آج دل میں ایک خلش سی ہے کہ کاش وہ حیات ہوتے تو میری اس خوشی میں سب سے بڑھ کر شریک ہوتے، اور ان کی آنکھیں فخر و مسرت سے چمک اٹھتیں۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ میرے والد محترم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، اور انہیں اعلیٰ علیین میں بلند مقام عطا فرمائے۔ *آمین* ۔
*
میں شکر گزار ہوں میرے مشفق استاذ عم مکرم حضرت قاری محبوب عالم صاحب *نائب صدر جمعیت علمائے پوٹھیہ* بلاک کشن گنج،
میرے برادر کبیر حضرت مولانا انصار احمد صاحب شیخ الحدیث *جامعہ فیض عائشہ سعید نگر بتھور (پانجی پاڑہ )*
جن حضرات کے دن کے روزے اور راتوں کی دعاؤں سے یہ شمع روشن ہوا
میں شکر گزار ہوں *روٹا مرکز* سے مربوط تمام افراد کا، خصوصاً
جناب ماسٹر شاکر صاحب،جناب مولانا قیصر صاحب، جناب ماسٹر شباب صاحب اور جناب قاری اویس صاحب
رفیق محترم حافظ دانش عثمانی صاحب کا جن حضرات نے ہمارے لیے تمام سہولیات کا انتظام کیا اور ہماری تیاری کےلیے ایک بہترین نظام بنایا
*اور خاص طور پر*
میں ہم سب کے مشفق و مربی، روحِ رواں، مختلف علوم و فنون کے ماہر، استاذِ مکرم
فضیلۃ الشیخ حضرت اقدس *مفتی محمد حذیفہ صاحب* قاسمی دامت برکاتہم
کا انتہائی درجہ شکر گزار ہوں، جن کی انتھک محنت، خالص دعاؤں اور بے مثال شفقت کا ثمرہ آج ہماری اس کامیابی کی صورت میں ظاہر ہوا۔
حضرت کی قربانیوں پر دل قربان ہونے کو چاہتا ہے،آپ صبح سویرے تشریف لاتے اور رات تقریباً ایک بجے تک ہماری کامیابی کے لیے مسلسل محنت فرماتے رہتے۔ دوپہر میں اگرچہ طلبہ کو استراحت کا وقفہ دیتے، لیکن خود آرام کے بجائے جوابی کاپیاں جانچنے میں مصروف رہتے۔ یہ اخلاص، یہ جاں فشانی اور یہ شفقت واقعی ہمارے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔
*مشکل کتابوں کے آسان دروس*
اور یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ درسِ نظامی کی بعض کتابیں اپنی دشواری کی وجہ سے طلبہ کے لیے ایک چیلنج سمجھی جاتی ہیں، جیسے مرقات، شرح تہذیب، قطبی، شرح نخبہ، شرح عقائد وغیرہ۔
لیکن استاذِ محترم نے طلبہ کے اشد اصرار پر نہ صرف ان کتب کو از صبح تا شام نہایت سہل، تشفی بخش اور دلنشیں انداز میں پڑھایا، بلکہ طلبہ کے اندر خود اعتمادی بھی پیدا فرمائی تاکہ میدان کارزار میں آسانی ہو۔ مزید برآں، مشکل مباحث کو آسان بنانے کے لیے اکثر کتابوں کا نقشہ بنا کر اس طرح سمجھاتے کہ یاد رکھنا اور سمجھنا دونوں آسان ہو جاتے۔مزید برآں حضرت کا اندازِ تدریس اس قدر واضح، دلنشیں اور مؤثر تھا کہ پیچیدہ سے پیچیدہ عبارت بھی نہایت آسان اور عام فہم انداز میں سمجھ میں آجاتی تھی حضرت مشکل ترین مباحث کو اس سلاست اور صفائی کے ساتھ بیان فرماتے کہ گویا گرہ خود بخود کھلتی چلی جائے، اور طالب علم کے دل میں اطمینان و یقین کی کیفیت پیدا ہو جائے۔ یہی وہ امتیاز تھا جس نے تعلیم کو صرف ایک سبق نہیں بلکہ ایک خوشگوار اور یادگار تجربہ بنا دیا۔
اور جو طلبہ روٹا آنے سے پہلے یہ کہہ رہے تھے کہ
ہمیں سب سے زیادہ *شرح تہذیب، قطبی، شرح عقائد اور شرح نخبہ* کی ٹینشن ہے وہی بعد میں کہنے لگے کہ *ان کتابوں کی تو ٹینشن نہیں،* مگر باقی پر مزید محنت کرنی پڑے گی۔
رب کریم حضرت کی عمر میں صحت کے ساتھ برکت عطاء فرمائے، حضرت کو دونوں جہاں میں کامیابی وکامرانی عطاء فرمائے اور حضرت کا سایہ تادیر قائم ودائم رکھے۔ آمین
*گزارش*
روٹا مرکز یہ انتخاب خداوندی ہے اور ایک ایسا چراغ ہے جو بے شمار دلوں کو روشنی دے رہا ہے۔اس لیے بندہ انتہائی عاجزی اور ادب کے ساتھ منتظمین روٹا مرکز اور حضرت استاذ محترم سے مؤدبانہ درخواست کرتاہے کہ اس چراغ کو مزید روشن کیا جائے، تاکہ اور بھی خواب حقیقت بن سکیں
جزاکم اللہ خیرا کثیرا
*از قلم* *
محمد شعیب اللہ شاہدی کشن گنجی
متدرس : *از ہر ہند دارالعلوم دیوبند*
تاریخ ۶/ذی قعدہ ۱۴۴۷ھ
مطابق
۲۴/اپریل ۲۰۲۶ء
بہ روز جمعہ بوقت تقریبا ۲ بجے رات**
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036