ناکامیوں کے طوفان میں دیوبند کا خواب

کونین بستوی متعلم : دارالعلوم دیوبند | Apr 24, 2026
Size
*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (٢٦)
مضمون نگار: *کونین بستوی، متعلم : دارالعلوم دیوبند*
===========================

**ناکامیوں کے طوفان میں دیوبند کا خواب**


عربی سوم کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، میں نے ممبئی کے مدرسے میں چہارم پڑھنے کے بجائے ایک بڑا فیصلہ کیا؛ کیونکہ دل میں دارالعلوم دیوبند کا خواب انگڑائیاں لے رہا تھا۔ میں نے چہارم عربی کے داخلہ امتحان کے لیے فارم بھر دیا اور بغیر کسی خاص تیاری کے، محض اللہ کے فضل سے 'موقوف علیہ' (ابتدائی فہرست) میں میرا نام آگیا۔ میں خوشی اور مسرت کے سمندر میں ڈوب گیا، لیکن ابھی حتمی نتیجہ آنا باقی تھا۔ جب حتمی فہرست لگی تو اس میں میرا نام کہیں نہیں تھا۔
اس ناکامی پر گھر والے سخت پریشان ہوئے اور رشتہ داروں کے طعنوں نے دل چھلنی کر دیا، مگر میں نے ہار نہیں مانی۔ اگلے سال میں نے اعظم گڑھ کے مدرسہ اشاعت العلوم میں داخلہ لیا اور جی توڑ محنت کی۔ رمضان المبارک میں گھر کی قربانی دی، یہاں تک کہ تراویح چھوڑ کر پورا مہینہ دیوبند کے داخلہ امتحان کی تیاری میں گزار دیا۔ اتنی مشقت کے باوجود نتیجہ پھر ناکامی کی صورت میں نکلا۔
واضح رہے کہ دارالعلوم دیوبند میں امتحان دینے کی وجہ سے میں 'دارالعلوم وقف' کو بھی خیرباد کہہ چکا تھا، جس کی وجہ سے اب راستے مزید تنگ ہوتے نظر آ رہے تھے۔
لیکن ہمت اب بھی جواں تھی۔ میں نے 'باغوں والی' (مدرسہ) میں داخلہ لے لیا اور وہاں ایک سال انتہائی کٹھن حالات میں تعلیم جاری رکھی۔ شب و روز کی محنت اور بے شمار مشکلات کا سامنا کرنے کے بعد، اللہ کے فضل سے ہفتم (عربی ہفتم) کی تعلیم مکمل ہوئی۔ اس بار میں نے وہ غلطی نہیں دہرائی جو پچھلے سال کی تھی (یعنی تیاری کے لیے تراویح چھوڑنا)۔
اس کے بعد میں ممبئی گیا، گھر والوں سے ملاقات کی، تراویح پڑھائی اور عید کے دوسرے ہی دن واپس روانہ ہو گیا۔ دل میں ایک پختہ عزم تھا کہ کامیابی اب بھی مل سکتی ہے۔ میں نے دوبارہ تیاری شروع کی اور بفضلِ خدا 'موقوف علیہ' میں نام آگیا۔ دیگر کتابوں پر بھی خوب محنت کی؛ 'سراجی' کے مشکل سوالات کا ڈر اب بھی تھا، مگر میرا توکل اللہ کی ذات پر تھا۔
بالآخر وہ مبارک لمحہ آ ہی گیا جب میرا نام دارالعلوم دیوبند کی حتمی فہرست میں چمک رہا تھا! کل 948 امیدواروں میں سے منتخب ہونے والے 514 طلبہ میں میرا نام بھی شامل تھا۔
اس طویل سفر میں کئی بار ناکامیوں سے واسطہ پڑا— پہلے دیوبند میں محرومی، پھر 'وقف' سے اخراج، پھر اعظم گڑھ میں ناکامی، لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری۔ گھر والوں کی پریشانی، اپنوں کے طعنے، رمضان میں گھر سے دوری اور کٹھن حالات — سب کچھ اللہ کی مدد سے برداشت کیا۔
اس سفر سے مجھے یہ سبق ملا کہ انسان کا سب سے بڑا ہتھیار **صبر، محنت اور توکل علی اللہ** ہے۔ یہ صرف ایک مدرسے میں داخلہ نہیں، بلکہ ناکامیوں کے طوفان میں اللہ کی رحمت کا بین ثبوت ہے۔
اللہ تعالیٰ اس طویل جدوجہد کو قبول فرمائے، علمِ نافع عطا فرمائے اور اسے امتِ مسلمہ کے لیے مفید بنائے۔ آمین یا رب العالمین!

از قلم : کونین بستوی
متعلم : دارالعلوم دیوبند
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036
About Author / مصنف کے بارے میں

کونین بستوی متعلم : دارالعلوم دیوبند is a valued contributor.

Share this Article