*مطالعہ کے بغیر سبق پڑھنا اور پڑھانا*
*طالب علم:* حضرت! کچھ اساتذہ بغیر مطالعے کے سبق پڑھاتے ہیں
*امام سیبویہ:* آپ ایک نیک اور مخلص طالب علم ہیں، قوی امید یہی ہے کہ آپ نے یہ بات نیک نیتی سے پوچھی ہے لیکن اپنے رفقاء کے درمیان اس کا تذکرہ ہرگز نہ کریں، کیونکہ ساتھیوں کے سامنے اساتذہ کے بارے میں ایسی باتیں کرنا بے ادبی کے زمرے میں آتا ہے اور "بے ادب محروم گشت از فضلِ رب"
*آگے امام سیبویہ فرماتے ہیں:* جس طرح مطالعہ یعنی اچھی اور مکمل تیاری کے بغیر سبق پڑھانا *طلبہ کی حق تلفی اور کتاب پر ظلم* ہے، ٹھیک اسی طرح مطالعہ کے بغیر سبق پڑھنا بھی *کتاب کی حق تلفی اور استاد پر ظلم* ہے،
اور ہاں اس بات کو بھی ذہن میں رکھیں کہ ہو سکتا ہے کچھ اساتذہ مطالعے کے بغیر سبق پڑھاتے ہوں لیکن یہ بھی ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ اکثر طلبہ بغیر مطالعے کے سبق پڑھنے آ جاتے ہیں