*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (٢٣)
مضمون نگار: *ابن میر کشمیری، متعلم: مظاہر علوم جدید، سہارنپور*
===========================
✍️ ابن میر کشمیری
٢٥ شوالالمکرم ١٤٤٧مطابق 14 اپریل 2026
================
*کیا دارالعلوم دیوبند میں ' داخلہ زندگی کے کامیاب اور ناکام ہونے کا معیار ہے؟*
دارالعلوم دیوبند (زادہ اللہ شرفہ) ایک عالمی دانش گاہ ہے جہاں سے پورے عالم میں علم الھی کا نور پھیلا ہے اور یہاں پر داخلہ کا ہونا یہ محنت اور ذہانت کے بعد قسمت کا کھیل ہوتا ہے بہت سارے طلبہ بہت ذہین اور باصلاحیت ہونے کے باوجود منتخب نہیں ہوتے دارالعلوم کے اساتذہ کرام فرماتے ہیں کہ بعض لوگ ہمارے پاس اپنی تصانیف کی تقریظ کے لے آتے ہیں ہم طالب علم کی صلاحیت دیکھ کر پوچھتے ہیں دارالعلوم میں پڑھنے کیوں نہیں آیا؟ جواب ہوتا ہے حضرت کئی مرتبہ امتحان دیا لیکن داخلہ نہیں ہو سکا۔
حضرت مولانا عبد الخالق مدراسی صاحب دامت برکاتہم اکثر فرماتے ہیں کہ آپ کا یہ خیال غلط ہے کہ دارالعلوم میں داخلہ صلاحیتوں کی بنیاد پر ہوتا ہے، منجانب اللہ مقبولیت بھی ہونی چاہیے لہذا جس خوش قسمت کا انتخاب ہوا ہے وہ اس پر اللہ تعالی کابے حد شکر اداکرے۔ اور جس کاانتخاب نہیں ہوا ہے وہ اللہ کے فیصلہ پر راضی رہ کر آگے محنت کرکے دوبارہ کوشش کرتے رہے ان شاءاللہ آگے اللہ تعالی راستہ ہموار کرے گا اور طالب علم کو چاہیے کہ تحصیل علم کا اصل مقصد مد نظر رکھ کر آگے محنت کے لے کمربستہ ہوجائے
تحصیل علم کا اصل مقصد خود علم پر عمل کرکے دین کی اشاعت کرنا ہے، علم انسان جہاں سے بھی حاصل کرے محنت اور اخلاص کے ساتھ حاصل کرے، چاہے ام المدارس دارالعلوم دیوبند ہو یا دنیا میں کسی کونے کا چھوٹا سا مدرسہ، اگر اخلاص ہو تو اللہ تعالی اس کو دنیا میں چمکاتا ہے، اس لیے دارالعلوم دیوبند میں داخلہ کو اپنی زندگی کے کامیابی اور ناکامی کا معیار بنانا صحیح نہیں ہے!
ماضی اور حال میں بھی ایسی بہت ساری شخصیات ملتی ہیں جنھوں نے دارالعلوم میں نہیں پڑھا لیکن ان کے علم کا ڈنکا پورے عالم میں بجا جیسے ماضی قریب میں امام النحو و الصرف حضرت قاری صدیق احمد باندوی صاحب، امیر المومنین فی الحدیث حضرت مولانا یونس صاحب جون پوری رحمتہ اللہ علیہ اور دور حاضر میں ہندوستان کے فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ، شیخ الاسلام حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب دامت فیوضھم اور حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی صاحب دامت برکاتہم، حضرت مفتی شعیب اللہ خان صاحب مفتاحی دامت برکاتہم وغیرہ وغیرہ۔
عارف باللہ مجدد ملت حضرت حکیم اختر صاحب نوراللہ مرقدہ کو ساتھیوں نے دارالعلوم آنے پر بہت اصرار کیا تو فرمایا میں رحمٰن کے لیے پڑھتا ہوں نہ کہ عباد الرحمن کے لیے
طالب علم کو اکابر کی طرف دیکھ کر مایوس نہیں ہونا چاہیے اللہ کے فیصلے باحکمت ہوتے ہیں۔ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہ کر اپنے اساتذہ اور بڑوں کے مشہورہ سے اخلاص کے ساتھ کسی مدرسہ کا رخ کرکے آئندہ کے لیے عزائم بلند رکھے بعض طلباء مایوس ہو کر پڑھائی کے علاوہ دوسرے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں
یاد رہے ہر ناکامی سبق آموز ہوتی ہے، میدان میں اترنا بہادری کی علامت ہوتی ہے پھر جیت جس کی بھی ہو وہ الگ بات ہے۔
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036