نکاح اور طالب علم

مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی | Apr 21, 2026
Size
*نکاح اور طالب علم*
*طالب علم:* حضرت مہتمم صاحب کا جمعے کے دن کا نکاح والا بیان (جس کا اخباری تراشہ فوٹو میں ہے) اس نمبر پر (80968*****) واٹس ایپ کر دیجئے!
*امام سیبویہ:* یہ نمبر کس کا ہے؟
*طالب علم:* یہ میرے والد صاحب کا نمبر ہے!
*امام سیبویہ:* بیٹے میں تمہارا مقصد سمجھ گیا، شادی کے لیے بیوی کا نان و نفقہ (بیوی کا کھانا پینا، رہائش، اور کپڑے) شوہر پر واجب ہے جبکہ ابھی آپ اپنے والد کے نان و نفقہ پر گزر بسر کر رہے ہیں، اگر والد صاحب نے میسج پڑھنے کے بعد نان و نفقہ بند کر دیا نا، تو اگلے مہینے موبائل میں چارج بھی نہیں کر پاؤ گے😍 ابھی محنت سے پڑھو اور اپنی صلاحیت کو پروان چڑھاؤ😔
*آگے امام سیبویہ فرماتے ہیں: عام طور پر زمانۂ طالب علمی میں طالب علم نان و نفقہ کا متحمل نہیں ہوتا ہے، اس لیے فراغت کے بعد ہی نکاح کرنا چاہیے، ہاں اگر کوئی صاحبِ استطاعت ہے تو پھر کوئی حرج نہیں (لیکن مشورے کے بغیر قدم آ گے نہیں بڑھانا ہے) اور ہاں مہتمم صاحب نے بیان میں نماز کی ادائیگی اور جنازے کی تجہیز و تکفیر میں تاخیر کو بھی سختی سے منع کیا ہے، صرف نکاح میں تاخیر کو نہیں 😔*
اس کو بھی پڑھتے جائیں:
يقول البعض:
من تزوج بواحدة فهو أسير.
ومن تزوج بثانية فهو سفير.
ومن تزوج بثالثة فهو وزير.
ومن تزوج برابعة فهو أمير.
ومن لم يتزوج فهو فقير.
About Author / مصنف کے بارے میں

مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی is a valued contributor.

Share this Article