*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (٢٢)
مضمون نگار: *محمد عبداللہ ورنگل، متعلم دارالعلوم دیوبند*
===========================
*"صبر کا پھل اگرچہ دیر سے ملتا ہے، لیکن میٹھا ضرور ہوتا ہے۔"*
*دارالعلوم دیوبند کا داخلہ: دعا، امید اور خوف کا حسین امتزاج*
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ "دارالعلوم دیوبند" ایشیا کی سب سے بڑی اور عالمِ اسلام کی مقبول درس گاہ ہے، یہاں کی پُر نور و پر کیف فضاء میں اپنی روح کو پاکیزہ بنانا، یہاں کے علمی و روحانی ماحول میں گُھل مل کر اپنے ظاہر و باطن کو سنوارنا، غلامانِ مصطفیٰ و متبعینِ سنت کی جوتیوں میں بیٹھ کر علم نبوی حاصل کرنا اور پھر نسبتِ قاسمی سے منسلک ہوکر "قاسمی" کے لقب سے ملقب ہونا ہر طالبِ علم کی خواہش اور اس کی دلی تمنا ہوتی ہے۔
اکثر یہ بات مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ ہر باپ اپنی اولاد کو اپنے میدان کا شہسوار بنانے کا خواب دیکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر کا بیٹا اکثر ڈاکٹر، کلکٹر کا بیٹا کلکٹر بنتا ہے اسی طرح مولوی کا بیٹا مولوی بنتا ہے۔
میرے والدِ گرامی بھی چونکہ اسی چمن کی ایک کلی اور اسی شاخ کی ایک پتی ہیں اور مجھے بھی اسی باغ کا بلبل بنانے کا خواب دیکھتے ہیں، تو اسی خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے مجھے طالبانِ علومِ نبوت کی صف میں لا کر کھڑا کردیا۔
چنانچہ سفرِ عالمیت کا آغاز حیدرآباد دکن کی معروف و بافیض درسگاہ "جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد" سے ہوا۔ عربی پنجم میں والدِ محترم نے دارالعلوم دیوبند جانے کی خواہش ظاہر کی، اگرچہ خود میرا ارادہ نہیں تھا ؛لیکن فضلِ خداوندی اور والدین کی دعاؤں کے سہارے بندہ رختِ سفر باندھ کر روانہ ہو گیا۔
حکمتِ خداوندی کے پیشِ نظر مسلسل دو سال کی آزمائشوں کے بعد،حضرت مولانا مفتی اشتیاق صاحب مدظلہ کے حکم پر براۓ ہفتم عربی "حسن پور" کی مقبول و بافیض درسگاہ "جامعہ اسلامیہ دارالسلام حسن پور " میں زانوئے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
الحمدللہ! یہاں کے مشفق و کرم فرما اساتذہ کی مسلسل محنتوں اور کاوشوں کے نتیجے میں، خصوصاً رمضان المبارک کے دوران ہمارے مشفق و مربی،غمخوارِ تلامذہ، مصلح الطلاب، حضرت اقدس استاذ العلماء مولانا محمد مجتبیٰ صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ کی بے پناہ قربانیوں، بے لوث محبتوں اور مخلصانہ خدمات نے اس پر *نورٌ علیٰ نور* کا اضافہ کر دیا، اور گویا ڈوبتی کشتی کو کنارے لگا دیا۔
اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری مسلسل کوتاہیوں، غفلتوں اور نافرمانیوں کے باوجود، استاذِ محترم نے باپ جیسی شفقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب کچھ نظر انداز کر دیا اور ہمیں کبھی کسی ناراضگی کا احساس تک ہونے نہیں دیا۔
رمضان المبارک میں اہلِ خانہ کو چھوڑ کر، بسا اوقات بغیر افطار کے ہمارے لیے بے چین رہنا اور ہماری فکر میں مسلسل منہمک رہنا یہ سب ایک باپ کے لیے بھی آسان نہیں ؛لیکن بلا مبالغہ استاذِ مکرم نے اس سے بڑھ کر شفقت کا ثبوت دیا، جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے مسلسل دوسال کے بعد امسال ٢٠٢٦ میں مادرِ علمی دارالعلوم دیوبند میں دورۂ حدیث شریف کے لیے انتخاب فرمایا اور یہاں کی شاگردی نصیب فرمائ۔
یوں انہوں نے ہمیں عملاً اس حقیقت کا یقین دلا دیا کہ:
*"صبر کا پھل اگرچہ دیر سے ملتا ہے ؛لیکن میٹھا ضرور ہوتا ہے۔"*
اس کام یابی میں جہاں اساتذہ کی قربانیاں کارگر ثابت ہوئیں، وہیں والدین کی دعاؤں، ان کی شب بیداریوں اور ہمارے لیے بہنے والے آنسوؤں کا بھی بڑا دخل رہا ہے۔ درحقیقت یہ انہی کی دعاؤں کا اثر ہے کہ ہم اس منزل تک پہنچ سکے، ورنہ ہماری کیا حیثیت تھی کہ اس راہ میں کامیاب ہوتے۔ ان کی ہر قربانی ہمارے لیے سرمایۂ حیات ہے، جس کا حق ادا کرنا ہمارے بس سے باہر ہے۔۔ اللہ سب کے والدین کا سایۂ عاطفت عافیت اور صحت و سلامتی کے ساتھ قائم و دائم رکھے اور ہمیں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔آمین۔
بڑی ناسپاسی ہوگی اس موقع پر اگر ہم اُن مخلص دوستوں اور اپنے عزیز بہن بھائیوں کو فراموش کر بیٹھیں جن کی توجہات، حوصلہ افزائیوں اور دعاؤں کا بڑا حصہ اس خوشخبری میں شامل رہا ہے۔ ہم تہِ دل سے آپ سب کے ممنون و مشکور ہیں۔ اور جن ساتھیوں کا انتخاب نہیں ہو سکا، ان سے بس ایک بات عرض کرتے ہوئے ان کے حق میں دعا گو ہیں:
کہ گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
اور
منزل کی جستجو میں کیوں پھر رہا ہے راہی
اتنا عظیم بن جا کہ منزل تجھے پکارے
اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے بھی بڑی خوشخبریاں عطا فرمائے، ہمت و حوصلہ اور صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔
بارگاہِ الٰہی میں ہم سب دل کی گہرائیوں سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ استاذِ محترم کو صحت و عافیت کے ساتھ عمرِ دراز عطا فرمائے، آپ کے والدینِ مکرمین کو جزائے خیر دے، اور آپ کی ان خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔
نیز جامعہ کے تمام اساتذہ کرام، اراکین و معاونین، بالخصوص اہلِ حسن پور کو دنیا و آخرت کی سعادتیں نصیب فرمائے، اور ہم سب کو دونوں جہان کی کامیابیوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔
اخیر میں منتخب ہونے والے ساتھیوں کو بھی یاد دلاتا چلوں کہ
لاکھ دام بڑھ جاۓ خوشبوؤں کا پھولوں سے
خوشبوؤں پہ واجب ہے احترام پھولوں کا
✍️ محمد عبداللہ ورنگل
متعلم دارالعلوم دیوبند
٢٥/ شوال المکرم ١٤٤٧ھ
١٤ اپریل ٢٠٢٦ء
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036