*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (٢١)
مضمون نگار: *محمد صادق گلبرگہ، متعلم: مظاہر علوم سہارنپور*
===========================
*منزلِ مقصود کے لیے ایک نیا عزم*
السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ تعالیٰ وبرکاتہ
زندگی نشیب و فراز کا نام ہے اور کامیابی کا راستہ ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا، بندہ گزشتہ سال ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد میں عربی ششم کی تعلیم مکمل کرکے امسال ازہر ہند دارالعلوم دیوبند میں عربی ہفتم کے داخلہ کا متمنی تھا لیکن امسال داخلہ وہاں مقدر نہیں تھا تو بندہ نے مظاہر العلوم جدید سہارنپور کا رخ کیا اور وہاں منتخب طلبہ کی فہرست میں عربی ہفتم کیلئے داخلہ مقدر ہوگیا، علمِ دین کی پیاس بجھانے کے لیے دارالعلوم دیوبند کی مرکزی حیثیت سے انکار ممکن نہیں لیکن وہاں داخلہ نہ ہونا کسی بھی طور پر علمی سفر کا اختتام نہیں ہے۔ اللہ رب العزت نے اگر ایک دروازہ عارضی طور پر بند کیا ہے تو اس کا مقصد ہمت ہارنا نہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع فراہم کرنا ہے
مظاہر علوم سہارنپور وہ تاریخی ادارہ ہے جسے اکابرینِ دیوبند نے اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے۔ یہ دارالعلوم دیوبند کا کوئی متبادل نہیں بلکہ اس کا ہم پلہ اور علمی جڑواں بھائی ہے، یہاں کا تعلیمی ماحول اساتذہ کی شفقت اور روحانی فضا ایک طالبِ علم کو علمی و اخلاقی طور پر اس مقام پر پہنچا دیتی ہے جہاں سے دارالعلوم دیوبند کے کٹھن امتحانات آسان محسوس ہونے لگتے ہیں
میرا ارادہ دارالعلوم دیوبند سے دستبرداری کا ہرگز نہیں ہے، بلکہ یہ ایک تکنیکی پسپائی ہے تاکہ میں مستقبل میں زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ سامنے آسکوں مظاہر العلوم میں قیام کے دوران میرا ہدف صرف کتابیں پڑھنا نہیں ہوگا(بلکہ)
استعداد کی پختگی اور نصابی کتب پر عبور حاصل کرنا ہوگا تاکہ دیوبند کے داخلہ امتحان میں کوئی کمی باقی نہ رہے۔
مطالعہ میں وسعت دارالعلوم کے طریقہ امتحان اور وہاں کے علمی معیار کے مطابق خود کو ڈھالنا
اور اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے تقویٰ اور للہیت پیدا کرنا ہے
مایوسی علم کے طالب کے لیے زہرِ قاتل ہے، تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے جلیل القدر علماء وہ ہیں جنہوں نے ابتدائی مراحل میں رکاوٹوں کا سامنا کیا لیکن ان کی استقامت نے انہیں آسمانِ علم کا بدرِ منیر بنا دیا، میرا مظاہر العلوم میں داخلہ لینا دراصل دارالعلوم دیوبند کی دہلیز تک پہنچنے کے لیے پہلا قدم ہے۔
`حاصلِ کلام`
میں ناامید نہیں ہوں، کیونکہ میرا رب میری نیتوں سے واقف ہے مظاہر علوم کی علمی فضا میں رہ کر میں خود کو اس قابل بناؤں گا کہ جب اگلی بار دارالعلوم دیوبند کے دروازے پر دستک دوں تو علم و ہنر کی دولت سے میرا دامن بھرا ہوا ہو یہ وقت رکنے کا نہیں بلکہ نئے جوش اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھنے کا ہے -
محمد صادق گلبرگہ
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036