*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (١٨)
مضمون نگار: *گل رضا راہی ارریاوی، متعلم: دارالعلوم دیوبند*
===========================
*ایں سعادت بزور بازو نیست*
طالبان علومِ نبویہ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کرے ،اس کےلیے وہ پیہم سعی ،خوب جد و جہد کرتے ہیں، قربانیاں دیتے ہیں، رمضان و عید جیسے خوشی کے موقع کو بھی قربان کر دیتے ہیں، تکرار و مطالعہ میں لگ جاتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں، رب کے حضور آہ و زاری کرتے ہیں، صوم و صلاۃ کی پوری پابندی کرتے ہیں، لایعنی امور سے مکمل اجتناب کرتے ہیں، حتی الوسع کوشش کرتے ہیں کہ میرا رب راضی ہوجاۓ جس سے نسبتِ قاسمی میرا مقدر کا ستارہ بن جاۓ -
اس کے لیے طلبۂ مدارس امتحان دیتے ہیں، امتحان اپنے آپ میں کیا ہی ستم ہے یہ طلبۂ مدارس سے بہتر جانتے ہیں، سراسیمگی کا عالم ہوتا ہے، مدارس میں ششماہی و سالانہ امتحان کی کیا کمی ہے ،اسی سے طلبہ اضطراب و بے چینی کے عالم میں ہوتے ہیں ، وہی امتحان ہضم کرنا دشوار ہوتا ہے ،مگر دارالعلوم دیوبند و دارالعلوم وقف دیوبند اور مظاہر علوم جیسے بڑے ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق، اکابر کی نسبت حاصل کرنے کا جنون، طلبہ کو امتحان کا یہ کڑوا گھونٹ پینے پر مجبور کر دیتا ہے، ہر جگہ امتحان دیتے ہیں، اور مسلسل دیتے ہیں تاکہ کہیں تو نام آجاۓ، اور میری طلب پوری ہوجاۓ، اس دوران بہت صبر و استقامت سے کام لیتے ہیں، سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہیں۔
جب ان میں سے کسی جگہ نام آجاتا ہے تو سارے غم، ساری تکلیفیں بھول جاتے ہیں اور اور چہرے پہ مسکراہٹ آجاتی ہے اور سجدۂ شکر بجا لاتے ہیں۔
لیکن نام نہیں آتا تو رضا بالقضاء کا اظہار کرتے ہوئے صبر کر لیتے ہیں اور مزید عزم مصمم کرتے ہیں کہ آئندہ دوبارہ کوشش کریں گے، دورۂ حدیث کے امیدوار طلبہ مزید دوسرے بڑے مدارس میں امتحان دیتے ہیں تاکہ بڑے ادارے سے فارغ ہوں ورنہ اپنے سابق ادارہ کا رخ کرتے ہیں -
خیر راقم بھی انہیں میں کا ایک طالب علم تھا جنہوں ان تمام مراحل کو پار کیا، ہر طرح کے مشقت کو برداشت کیا، اس کے لیے تگ و دو کیا، گزشتہ کئی مرتبہ امتحان دیا مگر زہے نصیب نام نہیں آیا، لیکن ہمت نہیں ہاری، امید و کوشش کے دامن کو نہیں چھوڑا اور اسی میں لگا رہا حتی ان کہ آخری مرحلے پہ آ گیا -
راقم کا دورۂ حدیث کا سال تھا،ہدل میں عجیب سی بے چینی تھی، شوق تھا، فکر تھی، جنون تھا کہ کسی طرح دارالعلوم کی درسگاہ ملے، وہاں کے اکابر سے کسب فیض ہو، اس کے لیے راقم نے آوائل سال میں ہی والدہ ماجدہ کو یہ اطلاع دیدے تھی کہ میں رمضان میں گھر نہیں آؤں گا کیونکہ مجھے دارالعلوم میں داخلہ لینا ہے اور یہ بغیر قربانی کے مشکل ہے-
بے محنت پیہم کوئی جوہر نہیں کھلتا
روشن شرر تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد
قربان جاؤں میں اپنے تمام ہی اساتذہ پر جنہوں نے مجھے دارالعلوم کے لیے محنت پر ابھارا، اس چنگاری کو برقرار رکھا اور ہوا دیتے رہے، امسال سالانہ چھٹی ہوئی، طلبہ گھر جانے لگے لیکن میں نے یہ تہیہ کرلیا تھا کہ میں گھر نہیں جاؤں گا، پھر تعلیم میں یکسوئی اور بہتر ماحول کی تلاش میں جامعہ دارالسلام حسن پور امروہہ چلا گیا۔
بفضل اللہ و عونہ وہاں ایسے مربی ،مصلح اور ہادی ملے جنہوں نے جنہوں نے ہماری تربیت و اصلاح اور مکمل رہنمائی کی اور وہ تمام کام کراۓ جو ہمارے داخلے میں مفید ومعاون بنے-
ماشاءاللہ وہاں کے طلبہ پہلے سے ہی محنتی تھے وہ کہتے ہیں نا "صحبت صالح ترا صالح کند" وہی ہوا ، چونکہ ہم آزاد طبیعت کے تھے، محنت و جفاکشی کے عادی نہیں تھے، لیکن جب ماحول ملا تو ہم بھی اسی رنگ میں رنگ گیے اور ہم میں بھی وہ اثر ظاہر ہونے لگا، ہم بھی پڑھنے اور تکرار و مطالعہ کرنے لگے، دعائیں اور ذکر و اذکار کا خوب ورد کرنے لگے، درود شریف کا خوب اہتمام کرنے لگے تاکہ رب کریم کا فضل ہو جاۓ۔
خیر امتحان ہوا بس ایک الجھن تھی کیا پتا کی اہوگا اور دل میں امید و خوف کی کیفیت تھی، جب دارالعلوم وقف اور مظاہر علوم میں نام نہ آیا تو بے چینی بڑھ گئی کیا ہوگا، دونوں جگہ نام نہیں آیا، مگر آخری امید قوی باقی تھی کیوں کہ" ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین" کہ اللہ تعالیٰ محسنین کے اجر کو ضائع نہیں کرتا -
بس دل میں یہی بات تھی کہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا تو نام آۓ گا کیوں کہ اللہ رب العزت اگر ہماری محنت پر کچھ دیدے تو یہ اس کا فضل ہے اس لیے کہ وہ قادر مطلق ہے اور مالک کو اپنی مملوکہ چیزوں میں تصرف کرنے کا مکمل اختیار ہوتا ہے -
لیکن ہمارے مخلص احباب اور اساتذۂ کرام ہمارے لیے دعا کرتے رہے اور دعا دیتے رہے اور حوصلہ بھی دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں کو ضائع نہیں کرے گا -
نتیجہ آنے والا تھا ، آنکھیں اس کے دید کے منتظر تھیں، اسی دن میرے ایک استاذ محترم آۓ ہوۓ تھے، ایک ساتھی نے اطلاع دی ان سے مل لیں، خبر ملتے ہی میں حاضر خدمت ہوا، وہاں سے فارغ ہو کر جب کمرے میں آیا تو امروہہ سے ایک ساتھی نے نتیجہ دیکھنے کو کہا پر ہمت نہیں ہوئی، لیکن پھر ہمت جٹائی اور دورد شریف اور استغفار کا ورد کرتے ہوۓ نتیجہ دیکھا ،اور دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرمایا ، اساتذہ ،اہل خانہ واحباب کی دعائیں میرے حق قبول ہوئی اور ہم بامراد ہوۓ ،راستے پر ہی راقم نے اپنے اہل خانہ کو اطلاع دی اور انہوں نے خوشی کا اظہار کیا، پھر ہم نے سجدۂ شکر اور صلاۃ الشکر ادا کیا -
بعد ازاں اپنے اساتذۂ کرام اور احباب کو یہ خوش خبری سنائی، خوش ہوۓ، دعائیں دی اور مزید محنت کی ترغیب دی -
یہ نعمت مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اساتذہ کرام واحباب کی خصوصی توجہات سے حاصل ہوا -
میں ان سب کا جتنا بھی شکر ادا کروں وہ کم ہے -
این سعادت بزور بازو نیست
تا نہ بخشد خداۓ بخشندہ
اللہ تعالیٰ مجھے اس نعمت کی قدر دانی کی توفیق عطاء فرمائے
اور اساتذۂ کرام، اہل خانہ اور احباب کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین ثم آمین
گل رضاراہی ارریاوی، متعلم: دارالعلوم دیوبند
٢٩شوال المکرم ١٤٤٧ھ
بوقت ٢:٤٤ دوپہر
دوران سفر
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036