*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (١٧)
مضمون نگار: *حسين كٹيہار، متعلم دار العلوم دیوبند*
===================
*دارالعلوم دیوبند میری جستجو اور ایک مقدس منزل*
دنیا میں ہر انسان کا کوئی نہ کوئی خواب ضرور ہوتا ہے، لیکن ایک طالب علم کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا اعزاز ہو سکتا ہے کہ اس کی آنکھیں ازہر ہند دارالعلوم دیوبند کی خاک چومنے کا خواب دیکھیں۔ یہ صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ علم و عرفان کا وہ مرکز ہے جہاں کی فضاؤں میں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں گونجتی ہیں۔ میرے دل میں بھی ہمیشہ سے یہ خواہش ایک پودے کی طرح پروان چڑھتی رہی کہ کاش میں بھی اس قافلے کا حصہ بن سکوں جس کی بنیادوں میں اکابرین کا تقویٰ اور خلوص شامل ہے🌟💫
کسی بھی بڑی منزل کے حصول کے لیے محنت کی شرط اولین ہوتی ہے۔ میں نے اپنے اس خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دی۔ کتابوں سے دوستی کی راتوں کی نیندیں قربان کی اور اسباق کی تکرار کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا💫🌟
وہ لمحہ میری زندگی کا سب سے یادگار لمحہ
تھا جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ میری محنت رنگ لائی ہے اور بندہ کا انتخاب مادر علمی دارالعلوم دیوبند میں ہو گیا ہے✨یہ صرف ایک امتحان میں کامیابی نہیں تھی، بلکہ اس تڑپ کی تسکین تھی جو برسوں سے میرے سینے میں موجود تھی۔ اللہ رب العزت کا بے انتہا شکر ادا کیا، جس نے مجھ جیسے طالب علم کو اس عظیم علمی و روحانی خانقاہ کی بساط پر جگہ عطا فرمائی💫
جب میں نے پہلی بار طالب علم کی حیثیت سے دارالعلوم کی حدود میں قدم رکھا تو محسوس ہوا جیسے علم کے ایک ٹھاٹھیں مارتے سمندر کا کنارہ مل گیا ہو۔ وہ در و دیوار، وہ علمی فضا اور اکابرین کی یادوں سے لبریز راستے مجھ سے کہہ رہے تھے کہ اب ذمہ داریوں کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے۔ یہ داخلہ میری منزل نہیں، بلکہ اس عظیم منزل کی طرف پہلا قدم ہے جس کا مقصد رضائے الہی اور خدمت دین ہے۔
(والدین اور اساتذہ کرام کی خوشی)
میری اس کامیابی پر مجھ سے زیادہ خوش میرے والدین اور اساتذہ تھے۔ ان کے چہروں کی چمک اور آنکھوں کی نمی یہ بتا رہی تھی کہ ان کی محنتیں اور دعائیں رائیگاں نہیں گئیں۔ ان کا سر فخر سے بلند دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ اولاد کی اصل کامیابی یہی ہے کہ وہ اپنے بڑوں کے خوابوں میں حقیقت کے رنگ بھر دے۔ ان کی شفقت بھری تھپکی نے میرے عزم کو مزید جلا بخشی⚡
اب جبکہ داخلے کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، میری دعا ہے کہ باری تعالیٰ مجھے یہاں کے شب و روز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔ میں یہاں سے صرف کتابی علم ہی نہیں بلکہ تقویٰ اخلاق اور کردار کی وہ دولت سمیٹنا چاہتا ہوں جو دارالعلوم کا خاصہ ہے۔ اللہ کرے کہ میرا یہ تعلیمی سفر میرے لیے اور پوری امت مسلمہ کے لیے نافع ثابت ہو💫✨
💫سابقہ مدرسہ💫
(مدرسہ عربیہ اسلامیہ نورمحمدیہ قصبہ جھنجھانہ ضلع شاملی)
💫اساتذہ کرام 💫
(حضرت مولانا اکرم صاحب)
(حضرت مولانا اکرام صاحب)
(حضرت مولانا مفتی دلدار صاحب)
(حضرت مولانا مفتی اشیم صاحب)
(حضرت مولانا مفتی ارحم صاحب)
(حضرت مولانا مفتی حنظلہ صاحب)
متعلم، حفظ الله ابن محمد شاہد حسين بن محمد عابد حسين بن محمد قسمت علی
ساكن، نظرابارى
ضلع، كٹيہار
صوبہ، بہار
درجہ ،دورہ حدیث شریف
=====================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، اٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036