دارالعلوم دیوبند میں تحصیل علم کا شوق ،اور الفاظ شکر

صدیق کشمیری، متعلم دارالعلوم دیوبند | Apr 19, 2026
Size
*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (١٥)
مضمون نگار: *صدیق کشمیری، متعلم: دار العلوم دیوبند*
===============================
*دارالعلوم دیوبند میں تحصیل علم کا شوق ،اور الفاظ شکر*

*کہاں میں کہاں یہ فضل ربانی*
*یا اللہ یہ تو ہے تیری مہربانی*

*زندگی کے کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جو محض ایک خواب ہی بن کر رہ جاتے ہیں اور خوابوں کا حقیقت میں تبدیل ہو جانا یقیناً بے بہا خزانے کا مل جانا ہے، انہیں خوابوں کی ایک کڑی یہ تھی کہ میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لے کر اس چمن علم کی مہک سے فیض یاب ہوں لیکن جب میری نظر اپنی معصیت زدہ زندگی پر پڑتی تو مایوسی سے چہرے پر خاموشی چھا جاتی*
*کہ*
*میں فقیر سا دربارِ سلطانی تکتا ہوں*
*ورنہ بزمِ سخن میں مرا معیار کہاں ہے*

*الٰہی! نظرِ کرم ہو،بس یہی آس ہے*
*ورنہ بازارِ ہنر میں میرا شمار کہاں ہے*

*یہ وہ قاسمی چمن ہے جہاں سے ہر دور میں بڑے بڑے علماء ،فصحاء، بلغاء ،ادباء، حکماء پیدا ہوئے اور پوری زندگی دین کی خدمت صرف کردی اور انہوں نے تمام فِرَقِ باطلہ اور غیر نظریات کا قلم، مناظرے اور تحریری رد کے ذریعے باطل کو بے نقاب کیا۔*
*ایک جانب مجھے بڑی پریشانی لاحق تھی کہ اگر میرا نام نہ آیا تو میں کیا کروں گا ذہن پر کافی دباؤ تھا دوسری طرف خوشی سے پھولے نہ سماتا کہ اگر میرا نام آئے گا تو نعمت عظمیٰ کا حامل ہوں گا اور اللہ تعالیٰ سے مانگتا رہا مانتا رہا*
*دارالعلوم دیوبند میں تعلیم حاصل کرنا میری زندگی کا ایک اہم اور بڑا خواب تھا اور مجھے اللہ کی ذات پر پوری امید تھی کہ باری تعالیٰ مجھے دارالعلوم دیوبند میں داخلے کے انعام سے ضرور ہم کنار فرمائے گا اور جب موقوف علیہ کا نتیجہ آویزاں کردیا گیا تو میں نے کچھ عجلت سے کام نہیں لیا بلکہ سکون سے بیٹھا رہا مجھے خدا پر پورا یقین تھا کہ انشاء اللہ میرا نام ضرور ہوگا بحمدللہ ایسا ہی ہوا اور پھر کچھ دن انتظار کے بعد جب اصلی نتیجہ سامنے آیا تو میں اپنے سابقہ مدرسہ سراج العلوم ککرولی مظفر میں تھا کہ دوستوں کا فون آیا اور جب مجھے نتیجہ کے صفحہ اول پر لکھے اپنے نام پر نظر پڑی تو یوں خوشی محسوس ہوئی کہ جیسے جنت کا ٹکٹ مل گیا ہو*
*اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے اس فقیر کو دارالعلوم دیوبند میں داخلہ کی اجازت مل گئی یقیناً مجھ جیسے عاصی اور غبی مزاج طالب علم کیلئے نعمت عظمیٰ ہے اور باعث فخر بھی ورنہ بندہ ان نسبتوں کی سوچ سے بھی عاجز تھا یہ سب میرے پیارے اساتذہ کرام کی محنت وشفقت، اصابت راۓ اور پیارے والدین کی دعاؤں کا ثمرہ ہے*
*اللہ تعالی تمام کے علم میں عمل میں عمر میں صحت میں تقوی میں برکت نصیب فرمائے*



✍️*مضمون نگار ۔صدیق کشمیری* *متعلم دارالعلوم دیوبند*
*سابقہ مدرسہ سراج العلوم ککرولی مظفر نگر*
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036
About Author / مصنف کے بارے میں

صدیق کشمیری، متعلم دارالعلوم دیوبند is a valued contributor.

Share this Article