*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (١٣)
مضمون نگار: *محمد کامران پرتاپ گڑھی، متعلم: دار العلوم دیوبند*
===============================
*دارالعلوم دیوبند میں داخلے کا وقت محشر کی منظر کشی*
دارالعلوم دیوبند محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں، بلکہ برصغیر کی علمی و روحانی تاریخ کا وہ سنگ میل ہے جہاں قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں دلوں کو جلا بخشتی ہیں۔ لیکن اس "ازہرِ ہند" میں داخلے کا مرحلہ کسی کڑے امتحان سے کم نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب دیوبند کی بستی میں علم کے پیاسوں کا وہ اژدھام ہوتا ہے جو بلا مبالغہ محشر کا سماں پیش کرتا ہے۔
جب داخلے کے ایام قریب آتے ہیں، تو دیوبند کی تنگ گلیاں اور وسیع میدان تنگ پڑنے لگتے ہیں۔ ملک کے طول و عرض، بلکہ سرحدوں کے پار سے بھی ہزاروں تشنگانِ علم اپنے سینوں میں تڑپ اور ہاتھوں میں اپنی قسمت کا فیصلہ (داخلہ فارم) لیے اس بستی کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔ ہر چہرے پر ایک عجیب سی بے چینی، آنکھوں میں امید کی چمک اور دل میں ایک انجانا سا خوف ہوتا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر ایسا گمان ہوتا ہے جیسے کوئی آوازِ بازگشت انہیں کسی خاص مقصد کے لیے پکار رہی ہو اور وہ سب لبیک کہتے ہوئے دوڑے چلے آ رہے ہوں۔
داخلے کے ان مخصوص دنوں میں ہر طالب علم اپنی ہی فکر میں غرق ہوتا ہے۔ وہ جس سے ملتا ہے، بس یہی پوچھتا ہے: "کون سی کتاب کا امتحان ہے؟" "ممتحن کون ہیں؟" "سوالات کی نوعیت کیا ہوگی؟" ہر طرف ایک شورِ قیامت بپا ہوتا ہے، لیکن اس شور میں بھی ایک خاص قسم کا سکوت ہوتا ہے—مطالعے کا سکوت۔ کوئی مسجدِ رشید کے ستون سے ٹیک لگائے کتاب میں گم ہے، تو کوئی احاطۂ مولسری میں بیٹھا اسباق دہرا رہا ہے۔ کسی کو اپنے کھانے کی ہوش ہے نہ سونے کی۔ بس ایک ہی دھن ہے کہ کسی طرح اس "علمی بہشت" کے دروازے ان پر کھل جائیں۔
، جس وقت لائبریری میں بیٹھ کر ہر طالب علم اپنے اپنے پرچہ کی طرف نظر ڈالتا ہے تو طالب علم کے لیے وہ لمحہ میزانِ عدل پر کھڑے ہونے جیسا ہوتا ہے اور سوالات کی باریکی پسینے چھڑا دیتی ہے۔ اس وقت ایسا لگتا ہے جیسے نامۂ اعمال پیش کیا جا رہا ہو۔ ایک ایک لفظ کی فصاحت اور عبارت کی درستگی پر مستقبل کا دارومدار ہوتا ہے۔ اگر جواب درست نکلا تو چہرہ خوشی سے ٹمٹما اٹھتا ہے، اور اگر کہیں لغزش ہوئی تو حسرت و یاس کی ایسی تصویر بنتی ہے جو دیکھنے والے کا دل پگھلا دے اور
جب نتائج کا وقت آتا ہے، تو دارالعلوم کا وہ تاریخی تختہِ اعلانات (نوٹس بورڈ) توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ طلبہ کا ہجوم اس طرح ٹوٹ پڑتا ہے جیسے پیاسے کنویں پر گرتے ہیں۔
کامیاب امیدوار: جن کا نام فہرست میں آ جاتا ہے، ان کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔ وہ سجدہ شکر بجا لاتے ہیں، گویا انہیں دنیا و مافیہا کی دولت مل گئی ہو۔
اور جن کے نام محروم رہ جاتے ہیں، ان کے چہروں پر وہ خاموش ماتم ہوتا ہے جو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی آنکھوں کے آنسو اس ندامت اور دکھ کا اظہار ہوتے ہیں کہ وہ اس سال "اربابِ علم" کی صف میں شامل نہ ہو سکے۔
*حاصلِ کلام*
دارالعلوم دیوبند میں داخلے کے وقت کا وہ ہجوم، وہ اضطراب، وہ بے چینی اور وہ علمی تڑپ واقعی ایک مختصر سے محشر کی یاد دلاتی ہے۔ یہ منظر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آج بھی اس مادی دور میں دینِ متین کی پیاس بجھانے کے لیے لاکھوں جوان اپنے گھر بار چھوڑ کر خاک چھاننے کو تیار ہیں۔ یہ محشر دراصل عشقِ رسول ﷺ اور شوقِ علمِ دین کا وہ جوش و خروش ہے جو دارالعلوم دیوبند کو رہتی دنیا تک ممتاز رکھتا ہے
مضمون نگار محمد کامران پرتاپگڑھی متعلم دار العلوم دیوبند
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036