*سلسلہ : اظہارِ خیالات بہ موقع امتحانِ داخلہ دارالعلوم دیوبند 2026ھ/ 1447 ء*
زیر نگرانی: `امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند`
مضمون (١٢)
مضمون نگار: *سید وجاہت حسین کشمیر، متعلم: دار العلوم دیوبند*
===============================
*بحمد اللہ وعونہ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میں اس نعمت عظمیٰ پر اللہ تعالٰی کا بے حد مشکور ہوں جس ذات نے ام المدارس دارالعلوم دیوبند میں مجھے داخلہ نصیب فرمایا ۔۔۔۔یہ میرا وہ حسین خواب تھا جس کو ہر شام اور لمحہ دیکھتا تھا اور دیکھنا پسند بھی کرتا تھا ۔۔۔۔ یہ صرف خواب تک محدود نہیں ۔۔۔بلکہ اس خواب کو یقین میں بدلنے کیلئے انتھک محنت اور استاتذہ اور والدین کی دعائیں بھی ضروری ہیں ۔۔اور میرے لئے یہ نہایت ہی بڑی نعمت ہے ۔۔۔جس کو پانے کیلئے میں نے 3سال سفر باندھا اور الحمدللہ تیسرے سال یہ نعمت حاصل ہو گئی ۔۔۔۔میں نے اس سفر میں بہت ساری چیزیں سیکھیں ۔۔۔جسمیں سے صبر محنت اور استاتذہ اور والدین کی دعائیں ۔۔۔یہ نہایت ہی اہم اور بنیادی چیزیں ہیں ۔۔۔اور میں اپنے استاذ محترم حضرت مولانا اسجد سبحانی صاحب کا بھی بہت مشکور ہوں جنہوں نے بہت ساری رہنمائی کی اور بہت سی چیزیں سیکھائی ۔۔۔اللہ تعالیٰ تمام اساتذہ کی کاوشوں کو قبول و منظور فرمائے ۔۔۔اور ہمیں استقامت نصیب فرمائے ۔۔۔
سید وجاہت حسین
سابق ۔۔۔مدرسہ کاشف العلوم گوس کپواڑہ
=======================
نوٹ: یہ مضمون امام سیبویہ اکیڈمی دیوبند کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم (واٹس ایپ چینل، فیس بک پیج، انسٹاگرام، ٹیلی گرام چینل اور ویب سائٹ) پر شائع کیا گیا ہے۔
*آپ بھی مضمون لکھ کر بھیج سکتے ہیں*
______________________
`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
7091402036
https://wa.me/917091402036