پنجم برائے عربی ششم کی تیاری کیسے کریں

مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی | Feb 22, 2026
Size
تحریر{۰٣}
۲۰/ جمادی الاخری ۱۴۴۶ھ
24/ دسمبر 2024ء
منگل
/////////////////////

*سوال؟*
عربی ششم کی تیاری کیسے کریں؟

`جواب ملاحظہ فرمائیں؛`
﴿*﴾ ہر کتاب کو نصاب تک یاد کرنے کی کوشش کریں، برائے ششم کل پانچ کتابوں کا امتحان ہوتا ہے، نصاب ملاحظہ فرمائیں؛
۱۔ ہدایہ اول مکمّل (موقوف علیہ ہے)
۲۔ مختصر المعانی؛ الفن الأول مکمل
۳۔ نور الانوار؛ بحث کتاب اللہ مکمل
۴۔ سلم العلوم شرطیات کی بحث تک
۵۔ مقامات حریری؛ پندرہ مقامے

﴿١﴾ سب سے زیادہ توجہ موقوف علیہ کتاب پر دیں، شروع کے 60 صفحات خوب اچھی طرح ہیں یاد کر لیں۔
﴿٢﴾ مقامات میں کم از کم پانچ مقامے ترجمہ و لغات اور اشعار کی ترکیب کے ساتھ ازبر یاد کر لیں، انشاءاللہ العزیز، یہاں تک دو سوالات آ جائیں گے
﴿٣﴾ مختصر المعانی میں خبر و انشاء، قصر، التفات اور دیگر مشہور مباحث اچھی طرح دیکھ لیں،اصطلاحات کی تعریفات (ممکن ہو تو عربی میں) ضرور یاد کریں۔
﴿٤﴾ نور الانوار میں شروع کے مباحث(مثلا قرآن کی اصطلاحی، لغوی تعریف اور اسی طرح بحث امر، ادا و قضاء وغیرہ) کو اچھی طرح دیکھ لیں
﴿٥﴾ سلم العلوم میں شروع کے کم از کم 35 صفحات اور بحث تصدیقات کے 30 صفحات تک خوب توجہ دیں، علاوہ ازیں اصطلاحات منطقیہ کی تعریفات یاد کریں، اس کے لیے مشہور رسالہ "المنطق" مصنفہ مولانا رکن الدین، یاد کریں تو بہتر ہے، کیونکہ اس کی تعریفات "شرح تہذیب، قطبی اور سلم" کی تعریفات کا اردو قالب ہے، ورنہ تیسیر المنطق اور آسان منطق وغیرہ ہی یاد کر لیں۔

`عمومی گذارشات:`
(١) برائے چہارم عربی تا دورۂ حدیث شریف کے تمام پرچے تحریری ہوتے ہیں، اس لیے تحریر کا صحیح ہونا از حد ضروری ہے، (تحریر میں خوش خطی اور مضمون نگاری دونوں شامل ہے)
(٢) داخلہ امتحان میں عمومًا جواب مختصر لکھا جاتا ہے جبکہ ششماہی اور سالانہ امتحان میں تفصیلی جواب پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
(٣) اگر آپ حافظ نہیں ہیں تو بہتر یہ ہے کہ ابتدائے رمضان ہی میں بلکہ 15 یا 20 شعبان تک دارالعلوم تشریف لے آئیں اور اگر حافظ ہیں تو کوشش کریں 15 رمضان تک قرآن سنائیں اور 20 رمضان تک دارالعلوم تشریف لے آئیں۔
﴿٤﴾ 20 رمضان تک صرف کتابیں یاد کریں، 20 رمضان کے بعد نوٹ اور پرچے حل کریں، البتہ جس دن جس کتاب کا پرچہ ہو اس دن صرف اسی کتاب کے پرچے اور نوٹ پڑھیں، (نوٹ اور پرچوں کا مشورہ صرف اس لیے ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ سوال کس نوعیت کا ہوتا ہے اور جواب کس نوعیت سے لکھا جاتا ہے۔
______________________
از قلم: مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی، منتظم اعلی:`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`







About Author / مصنف کے بارے میں

مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی is a valued contributor.

Share this Article