تحریر{۰۴}
۲۱/ جمادی الاخری ۱۴۴۶ھ
25/ دسمبر 2024ء
بدھ
------------------------
*سوال؟*
عربی ہفتم کی تیاری کیسے کریں؟
`جواب ملاحظہ فرمائیں؛`
﴿*﴾ ہر کتاب کو نصاب تک یاد کرنے کی کوشش کریں، برائے ہفتم عربی کل پانچ کتابوں کا امتحان ہوتا ہے، نصاب ملاحظہ فرمائیں؛
۱۔ جلالین شریف مکمّل
۲۔ ؛ ہدایہ ثانی؛ از ابتداء تا ختم کتاب الایمان
۳۔ حسامی؛ از کتاب السنۃ تا ختم کتاب
۴۔ میبذی؛ الفن الاول من القسم الثانی تا ما یعم الاجسام مکمل
۵۔ دیوان متنبی (قصائد منتخبہ)
تنبیہ: حسامی اور ہدایہ ثانی موقوف علیہ ہے اس لیے ان کتابوں میں سب سے زیادہ محنت کریں
﴿١﴾ *جلالین شریف* مندرجہ ذیل نکات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس پر سب سے زیادہ توجہ دیں:
(الف) تفسیری عبارت کی رعایت کرتے ہوئے ترجمہ یاد کریں
(ب) شان نزول یاد کریں
(ج) ضمائر کے مراجع ذہن نشیں کریں
(د) مفردات کے معانی مفسر رحمہ اللہ کی وضاحت کے مطابق یاد کریں
(ر) انبیاء کرام، امم سابقہ اور مشہور واقعات و قصص کا خلاصہ ضرور یاد کریں۔
(س) فوائد تفسیر دیکھیں (یعنی یہ ذہن نشیں کریں کہ مفسر علیہ الرحمہ نے آیت کریمہ کے کس جزء کی تفسیر اپنے کن الفاظ کے ذریعے کی ہے)
(ط) نحوی صرفی تحقیق، اور ترکیب نحوی پر خصوصی توجہ دیں۔
﴿٢﴾ *دیوان متنبی* اس طرح حل کریں:
(الف) صحیح ادبی ترجمہ، حل لغات (لغوی صرفی تحقیق)
(ب) اشعار کی ترکیب، (جس طرح عبارت پر اعراب اور اس کا ترجمہ کرنا ضروری ہے، اسی طرح متنبی میں اشعار کی ترکیب بھی ضروری ہے۔)
{٣} *میبذی* میں جزء لایتجزی کے ابطال کے دلائل مع جوابات و اعتراضات، برہان سلمی، حکمت طبعیہ، جسم طبعی، حرکت، سکون، نقطہ، فعل، انفعال، جوہر، عرض، معقولات اولیہ و ثانیہ، اقسام تقدم، ھیولی، اقسام حلول کی تعریفات و امثلہ اور صورت جسمیہ و نوعیہ کے مابین فرق وغیرہ کو تو یاد کر ہی لیں۔
{٤} *ھدایہ ثانی* میں:
(الف) مختلف فیہ مسائل کو مذاہب ائمہ مع دلائل یاد کریں
(ب) کتاب النکاح اور کتاب الطلاق کو بالاستیعاب حل کریں، (یہاں سے سوالات ضرور آتے ہیں۔)
﴿٥﴾ *حسامی* میں
۱. سنت سے متعلق اصول فقہ کی اصطلاحات مع تعریفات و امثلہ یاد کریں
۲۔ تعارض کی صورت میں ترجیح کے ضوابط یاد کریں
۳۔ احناف اور شوافع کے مابین مشہور مختلف فیہ مسائل کا استحضار کریں
۴۔ بحث قیاس سے ایک سوال ضرور آتا ہے، اس لیے قیاس کی لغوی و اصطلاحی تعریف اور شرائط یاد کریں، حقیقت، مجاز، خاص، عام وغیرہ کی تعریفات بھی رٹ لیں۔
`عمومی گذارشات:`
(١) برائے چہارم عربی تا دورۂ حدیث شریف کے تمام پرچے تحریری ہوتے ہیں، اس لیے تحریر کا صحیح ہونا از حد ضروری ہے، (تحریر میں خوش خطی اور مضمون نگاری دونوں شامل ہے)
(٢) داخلہ امتحان میں عمومًا جواب مختصر لکھا جاتا ہے جبکہ ششماہی اور سالانہ امتحان میں تفصیلی جواب پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
(٣) اگر آپ حافظ نہیں ہیں تو بہتر یہ ہے کہ ابتدائے رمضان ہی میں بلکہ 15 یا 20 شعبان تک دارالعلوم تشریف لے آئیں اور اگر حافظ ہیں تو کوشش کریں 15 رمضان تک قرآن سنائیں اور 20 رمضان تک دارالعلوم تشریف لے آئیں۔
﴿٤﴾ 20 رمضان تک صرف کتابیں یاد کریں، 20 رمضان کے بعد نوٹ اور پرچے حل کریں، البتہ جس دن جس کتاب کا پرچہ ہو اس دن صرف اسی کتاب کے پرچے اور نوٹ پڑھیں، (نوٹ اور پرچوں کا مشورہ صرف اس لیے ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ سوال کس نوعیت کا ہوتا ہے اور جواب کس نوعیت سے لکھا جاتا ہے۔
______________________
از قلم: مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی، منتظم اعلی:`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`