تحریر{۰۵}
۲۸/ جمادی الاخری ۱۴۴۶ھ
31/ دسمبر 2024ء
منگل
___________________________
*سوال؟*
دورہ حدیث شریف کی تیاری کیسے کریں؟
`جواب ملاحظہ فرمائیں؛`
دورہ حدیث شریف چونکہ آخری سال ہوتا ہے، اس لیے اس میں تقابل بہت زیادہ ہوتا ہے، لہذا خوب محنت کریں*
سب سے پہلے:
(*) ہر کتاب کو نصاب تک یاد کرنے کی کوشش کریں، برائے دورہ حدیث شریف کل پانچ کتابوں کا امتحان ہوتا ہے، نصاب ملاحظہ فرمائیں؛
۱۔ مشکوۃ شریف مکمّل
۲۔ ھدایہ آخرین؛
#ہدایہ ثالث؛ از کتاب البیوع تا ختم کتاب الاقرار
#ھدایہ رابع؛ از کتاب الشفعہ تا ختم ما یحدثه الرجل في الطريق من كتاب الديات
۳۔ سراجی؛ از ابتدا تا باب ذوی الارحام
۴۔ شرح عقائد مکمل
٥۔شرح نخبۃ الفکر
نوٹ: پانچ کتابوں کے تین پرچے ہوتے ہیں، تفصیل یہ ہے:
پہلا پرچہ؛ شرح عقائد مع نخبۃ الفکر (یہ موقوف علیہ ہے)
دوسرا پرچہ؛ ہدایہ آخرین مع سراجی
تیسرا پرچہ؛ مشکوۃ شریف
﴿١﴾ *مشکوۃ شریف*؛ دارالعلوم میں تین حصوں میں پڑھائی جاتی ہے:
ثلث اول؛ از ابتداء تا باب زیارۃ القبور مكمل
ثلث ثانی؛ از کتاب الزکوٰۃ تا باب تغطیة الأواني مكمل
ثلث ثالث؛ از كتاب اللباس تا ختم کتاب
#مشکاۃ شریف دارالعلوم میں بہت اہتمام کے ساتھ پڑھائی جاتی ہے، اکابر اساتذہ کرام پڑھاتے ہیں، حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب دامت برکاتہم العالیہ بھی مشکاۃ پڑھاتے ہیں، اس لیے اس کتاب کو خوب اچھی طرح حل کریں البتہ ہر ثلث کے شروع کے 20 صفحات ضرور حل کر لیں،
#اعراب اور ترجمے میں کوئی رعایت نہیں ہوتی ہے، مطلب خوب اچھی طرح قلمبند کرنا سیکھیں، حدیث میں بیان کردہ فقہی مسائل پر بھی توجہ دیں
(٢) *نخبۃ الفکر* کی اصطلاحات کی تعریفات عربی میں یاد کریں، مشہور مباحث مثلا اقسام حدیث(متواتر، عزیز، غریب، فرد مطلق اور فرد نسبی)، اسباب طعن، اقسام تدلیس اور دیگر اہم مباحث کو ضرور دیکھ لیں۔
(٣) *شرح عقائد* کے لئے؛ فرقوں(معتزلہ،خوارج، اہل سنت و الجماعت، سوفسطائیہ وغیرہ) کی تعریفات، مسئلہ رؤیت باری تعالی، گناہ کبیرہ میں اہل سنت، معتزلہ اور خوارج کا اختلاف، متقدمین و متاخرین کے مابین علم کلام میں فرق، مسئلہ شفاعت وغیرہ خاص طور پر دیکھ لیں،
﴿٤﴾ *سراجی* اس طرح حل کریں:
(الف) احوال یاد کریں
(ب) اصطلاحات مثلاً علاتی و اخیافی بھائی اور بہن، عصبہ، ذوی الفروض، ذوی الارحام، جد، جدہ، اب، عم، محروم، محجوب، حجب حرمان، حجب نقصان، وغیرہ کی تعریفات یاد کر لیں
(ج) قدیم نسخے کے مطابق شروع کے 10 صفحات خوب اچھی طرح یاد کر لیں۔
(د) مسئلہ بنانے کی خوب مشق کریں،
(س) سراجی کے پرچے میں کیلکولیٹر یا چھوٹا موبائل بغیر سیم کے، لے جانے کی اجازت ہوتی ہے، (یہ قانونی معاملہ ہے، اس لئے سراجی کے امتحان سے ایک دن پہلے انشاءاللہ اس کی مزید وضاحت کر دی جائے گی)۔ لیکن بقدر ضرورت حساب ضرور سیکھ لیں۔
(ط) عول، مخارج کی تعداد، مقاسمہ، اور مسئلہ اکدریہ وغیرہ کو ضرور یاد کریں۔
{٥} *ھدایہ آخرین* میں:
(الف) مختلف فیہ مسائل کو مذاہب ائمہ مع دلائل یاد کریں
(ب) کتاب البیوع اور کتاب الشفعہ پر زیادہ توجہ دیں، یہاں سے سوالات ضرور آتے ہیں۔
`عمومی گذارشات:`
(١) برائے چہارم عربی تا دورۂ حدیث شریف کے تمام پرچے تحریری ہوتے ہیں، اس لیے تحریر کا صحیح ہونا از حد ضروری ہے، (تحریر میں خوش خطی اور مضمون نگاری دونوں شامل ہے)
(٢) داخلہ امتحان میں عمومًا جواب مختصر لکھا جاتا ہے جبکہ ششماہی اور سالانہ امتحان میں تفصیلی جواب پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔
(٣) اگر آپ حافظ نہیں ہیں تو بہتر یہ ہے کہ ابتدائے رمضان ہی میں بلکہ 15 یا 20 شعبان تک دارالعلوم تشریف لے آئیں اور اگر حافظ ہیں تو کوشش کریں 15 رمضان تک قرآن سنائیں اور 20 رمضان تک دارالعلوم تشریف لے آئیں۔
﴿٤﴾ 20 رمضان تک صرف کتابیں یاد کریں، 20 رمضان کے بعد نوٹ اور پرچے حل کریں، البتہ جس دن جس کتاب کا پرچہ ہو اس دن صرف اسی کتاب کے پرچے اور نوٹ پڑھیں، (نوٹ اور پرچوں کا مشورہ صرف اس لیے ہے تاکہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ سوال کس نوعیت کا ہوتا ہے اور جواب کس نوعیت سے لکھا جاتا ہے۔
______________________
از قلم: مولانا اسجد سبحانی صاحب قاسمی، منتظم اعلی:`امام سیبویہ اکیڈمی، دیوبند`
imamsibawahacademy@gmail.com